Tuesday, 14 January 2014

تعدادکے لحاظ سے اسم کی اقسام:

*تعدادکے لحاظ سے اسم کی اقسام:
تعدادکے لحاظ سے اسم کی دواقسا م ہیں۔  1)واحد              2)جمع
1)واحد:وہ اسم جس سے صرف ایک چیزمرادلی جائے۔مثال:لڑکا،اسکول،مدرسہ،مسجد وغیرہ۔
2)جمع:وہ اسم ،جس میں دویادوسے زیادہ چیزیں مرادلی جائیں۔مثال:لڑکے،بیٹے وغیرہ۔
*   عربی میں  جمع کی دواقسام ہوتی ہیں۔
1.     جمع سالم                                       2۔جمع مکَسَّر
جمع سالم:وہ جمع جس میں اصل لفظ کی صورت باقی رہتی ہے۔مثال:حاضر                         سے        حاضرین،       ناظر       سے       ناظرین   ،            سامع      سے        سامعین               وغیرہ۔
 (الفبے جان مذکر(الفاط) کی جمع بناتے وقت "یا"جان دار مؤنث کی جمع بناتے وقت ،واحدکے آخر میں "ات" کا اضافہ کرتے ہیں۔حیوان سے حیوانات،اسی طرح خود واحد کے جمع بنائیں۔
واحد
جمع
واحد
جمع
واحد
جمع
حیوان
حیوانات
مکان
مکانات
تصوَّر
تصورات
جماد
جمادات
مقام
مقامات
تشریح
تشریحات
احسان
احسانات
تعزیر
تعزیرات
کاغذ
کاغذات
فساد
فسادات
مائع
مائعات
خیال
خیالات
تعلیم
تعلیمات
کمال
کمالات
طلسم(جادو)
طلسمات
سوال
سوالات




(ب):۔اگرواحد کے آخر میں "ت" یا "ہ" ہوتووہ حذف(ختم۔کاٹ دی جاتی ہے) ہوجاتی ہے۔مثال:استعارہ سے استعارات ،میں استعارہ کی " ہ " ختم/کاٹ کر اس کی جگہ "ات" کا اضافہ کیاگیاہے۔
واحد
جمع
واحد
جمع
واحد
جمع
استعارہ
استعارات
قصبہ
قصبات
تشبیہ
تشبیہات
اشارہ
اشارات
فقرہ
فقرات
طبقہ
طبقات
قطرہ
قطرات
معاملہ
معاملات
واقعہ
واقعات
حادثہ
حادثات
توجیہہ
توجیہات


اب " ات "والی مثالیں۔
واحد
جمع
واحد
جمع
واحد
جمع
آفت
آفات
ظلمت
ظلمات
روایت
روایات
حرکت
حرکات
حالت
حالات
حکایت
حکایات
بشارت
بشارات
برکت
براکات
حضرت
حضرات
عادت
عادات
خدمت
خدمات
لغت

عبادت
عبادات





*   نوٹ:یہاں پر طلباء کی سہولت کے لیے کچھ دو حرفی الفاظ کے جمع ہے ہیں۔تاکہ یاد کرنے میں آسانی رہے۔ممکن ہے یہ جوحد/جمع کسی دوسری قاعدے میں بھی شامل ہوں۔
واحد
جمع
واحد
جمع
واحد
جمع
اَب(باپ)
آباء
اُم (ماں)
امہا / امہات
بِر(نیکی)
اَبرار
جَد(دادا)
اجداد
حُر(آزاد)
احرار
خط
خطوط
رَب
ارباب
سِر(راز)
اَسرار
شَر(جھگڑا)
شُرور
صِر(ضد)
اِصرار
ضِد
اضداد
ظِل(سایہ)
ظلال
حد
حدود
ہم
ہموم
شک
شکوک

جمع مکَسَّر:اس میں واحداپنی اصلی حالت میں قائم نہیں رہتا۔مثال:کتاب سے کتب،لطف سے الطاف وغیرہ۔جمع مکسر کے لیے پندرہ /سولہ عربی اوزان اردو میں استعمال ہوتے ہیں۔جو اگلگلے صفحات میں آئیں گے۔


Friday, 8 November 2013

اردو قواعدو انشاء,

اردو قواعدو انشاء
اسم:Noun
·       جو لفظ اپنی پہچاں خود کرائے ۔(جو اپنا تعارف آپ ہو)۔
·       جس لفظ کو سمجھنے کے لیے دوسرے لفظ کی ضرورت نہ پڑے۔
مثال:انسان،اللہ،کائنات،مسجد،مکاں،ہادی،خلا،ہوا،بینائی(دیکھنے کی طاقت)،سامعت(سننے کی صلاحیت)،سوچ،خوشی،غم وغیرہ۔
فعل:Verb
v   الیسا لفظ جس میں کام کا کرنا ،ہونا،سہنا پایا جائے۔
v   جس میں وقت(زمانہ) پایا جائے۔یعنی کام کب ہوا(ماضی،حال،مستقبل)۔
مثال:پڑھا/پڑھا تھا/پڑھتا تھا۔۔۔۔پڑھتا ہے۔۔۔۔پڑھے گا۔۔۔۔۔کام کے ساتھ زمانہ بھی بتاتا ہے۔یعنی وقت کا تعین بھی ہے۔
حرف:Conjuction
اسا لفظ جو مہ فعل ہو اور نہ اسم ہو،بل کہ ایک اسم کو دوسرے اسم سے،اسم کو فعل سے  ملانے کے کام آئے،اسے حرف کہتے ہیں۔
مثال:نے ،سے کو ،پر ،تک،اوپر،نیچے،اور،و،کہ،جوں جوں،توں توں،تو ،اگر،گر ؤگیرہ۔
قافیہ:
شعر کے آخر میں آنے والے ہم آواز لفظ/الفاظ(ہم وزن)کو قافیہ کہا جاتاہے۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
اس شعر میں "تمنا "اور "خدایا" قافیہ ہیں۔
یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے،جو روح کو تڑپا دے
اس شعر میں"تمنا " اور تڑپا" قافیہ ہیں۔
ردیف:
وہ الفاظ جو شعر کے آخر میں قافیہ کے بعد آتے ہیں،اور(جوں کے توں)دہرا دیے جاتے ہیں۔ردیف کہلاتے ہیں۔
مثال:اوپر والی(درج بالا)دونوں مثالوں میں"میری"اور "دے" ردیف ہیں۔
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوںسے محبت کرنا
اس مثال میں"کرنا" ردیف ہے۔
تلمیح:
کسی تاریخی واقعے یا شخصیت کی طرف اشارہ کرنا،اور اسے موجودہ استعمال(واقعے) میں پس منظر کے طور پر استعمال کر نا۔تلمیح کہلاتاہے۔
مثال:
·       کشتیٔ نوح/طوفانِ نوح۔۔۔۔۔حضرت نوح ؑ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے(قرآن میں دیکھیں/پڑھیں)۔
·       چاہِ یوسفؑ/پرادرانِ یوسف/عزیز مصر/زلیخا/دیدۂ یعقوب/ماہَ کنعاں۔۔۔وغیرہ ۔حضرت یوسف ؑ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے(قرآن میں دیکھیں/پڑھیں)۔

·       خضر وسکندر/آبِ حیات/آب، حیوان۔۔۔حضرت خضر اور سکندر(ذولقرنین)کے واقعے کی طرف اشارہ ہے۔