Thursday, 24 January 2013

ظفر اقبال،مظہرفریدی


ظفر اقبال:
(یہاں کسی کوبھی کچھ حسبِ آرزونہ ملا)
مغربیت کی فکری یلغارختم ہوئی۔مشرق کے گنبدِ بے درکاایک گھرمیں سمٹناجہاں بے پناہ روحانی اذیتوں کاشاخسانہ تھا،وہیں'ہرشے قریب آکے کشش اپنی کھوگئی'کادسرانام بھی۔جولوگ مغربی تمدن کے اس بھیانک چہرے کودیکھ کرڈرے نہیں اورڈرنے سے پہلے ہتھیارڈال کراس سیل میں بہہ نہیں گئے۔وہ بے چہرگی کے کرب وعذاب سے بچ نکلے۔لیکن اس یلغارنے قدروں کواس قدربے چہرہ اورپائمال کردیا کہ دریافت کا نیاعمل وجود میں آنے لگا۔چوں کہ ہرفلسفہ وتحریک نے تشکیک کے وہ گنجلک جال بن دیے کہ یقیں کے پرجل گئے۔
لیکن اس قدرحوصلہ کس میں تھا کہ گمان سے نئے پہلوؤں کے جوئے شیر کاٹ لاتا۔لہٰذااکثر سوچیں دھڑن تختہ ہوگئیں۔یاپھرپیرویٔ مغرب ، مغربی اسلام اوریورپ سے ہوکرمشرق پہنچے۔لیکن یہ راستہ کٹھن اورطویل تھا۔اورشک کے وہ کانٹے جواس راہ کامقدرہوگئے تھے،راہ پرلا کردم توڑ گئے اور آخر آخرسانس پھول گئی،لیکن کسے معلوم! ۔
یقیں کی بات میں کچھ بھی نہیں تھا
نئے پہلوہوئے پیداگماں سے
ظفر اقبال کی شاعری اس مخمصے اورشک کے خارزارکوپاٹنے کانام ہے۔جہاں تک میں سمجھ سکاہوں ظفراقبال کی شاعری کوتین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتاہے۔پہلا دور۔۔۔آبِ رواں(جب شاعری فقظ شاعری تھی،کوئی گماں نہیں تھا۔کوئی نظریہ یاخیال تنگ نہیں کرتاتھا)۔
دوسرادور۔۔۔اینٹی غزل(تجربات یاپھرغزل میں کچھ کرگزرنے کاعمل،جوزیادہ کام یاب نہیں ہوا)،
تیسرادور۔۔۔۔(خالص ادب یاشاعری کی طرف رجوع،لاشعورمیں غالب کااثر)
اب تک۔۔۔۔ کلیاتِ ظفر اقبال(احمد جاوید کا کہنا ہے کہ ظفر اقبال کی کلیات کی دوسری جلد سے ایک بار پھر ان کی قدرتِ کلام، معنویات کی نئی تشکیل، زبان کے بارے میں آزادانہ رویے اور زبان و بیان کی انفرادیت کا اظہار ہوتا ہے اور ظفر اقبال کی خوبی یہ ہے کہ ان کی غزل جدید تر ہونے کے باوجود سخت ترین کلاسیکی معیار پر پوری اترتی ہے۔ ان کے بقول ’یہ ایک ایسی نادر بات ہے جس میں جدید غزل کا کوئی نمائندہ ان کی برابری نہیں کر سکتا ۔)
اردوادب میں لہجہ تحیرکی حدتک شفاف اوردل پذیرہے۔بعض اوقاتظفراقبال کی شاعری اورشخصیت ایک دوسرے کی معکوس نطرآتے ہیں۔ ظفراقبال کی شاعری جذبات اوروجدان کی شاعری ہے۔اوراگر'رحیم گل'سے چندالفاظ مستعارلے لوں تو"خون کی سچائی اصل سچائی ہے"۔
یہاں کسی کوبھی کچھ حسبِ آرزونہ ملا    
کسی  کو ہم  نہ  ملے، ا و  ر ہم کو تو  نہ  ملا  
جب یہ شعرپہلی مرتبہ کان میں پڑاتودل میں ایک  جل ترنگ سی بج اٹھی۔روح جھوم اٹھی،کوئی یوں بھی کہہ سکتاہے؟ایک وارفتگیٔ خیال،ایک تسکین مگر'غمِ دل مرے رقیبو،غمِ رائیگاں نہیں ہے'۔ایک میٹھی  کسک،ایک دھیمی آنچ"آگ ہے کہ چاندنی کانرم روسایہ ہے وہ"۔'حسبِ آرزو'اور'ہم'اور 'تو'،کاتال میل بس جی چاہتاہے کہ تصورِ جاناں کیے بیٹھے رہیں۔نہ آواز،نہ سرگوشی،ایک سرخوشی جوسرمستی کے ساتھ ہو'مدھم مدھم'۔اورکئی دنوں تک یہ شعر گنبدِ جاں میں گونجتارہا اورحزن کویاس میں ،یاس کوآس میں ،کئی رنگ آئے گزرگئے۔اس مدہوشی سے نکلے توسوچا،یہ 'ظالم'کون ہے؟ذرا ساتصرف اورغالب سے معذرت کاساتھ:
پوچھتے ہیں!وہ کہ'ظالم'کون ہے؟
کوئی  بتلاوو کہ ہم بتلاویں کیا؟
آخراس ظالم کوڈھونڈنکالا۔پہلی بار ٹی وی پہ دیکھا،پھردوبدو،انداز میں ایک کھراپن،سادہ سا  بول چال کاکھڑالہجہ،جوبعض اوقات سننے والے کوسخت یاتلخ محسوس ہوتاہے۔شایدیہ کھرااورکھڑالہجہ سچائی کی دین ہے!؟ایک مضافاتی شہرمیں ہونے کی وجہ سے تادیرکلام تک رسائی نہ ہوسکی،مگرایک شبنمی آگ جودل میں نہاں تھی،بجھی نہیں۔
مجھے کبڑ ا نہ سمجھو زندگی پر
میں ہنستے ہنستے دوہراہوگیاہوں
جوبدلاہے مرے اندرکاموسِم
توپتھرسے پرندہ ہوگیاہوں
پھریہ شعرنظروں سے گزرے۔شاعری کایہ انداز اورخاص کرغزل میں ،شایدکہ باید۔پہلے شعرمیں طنزِ ملیح کی ایسی نادرمثال  کہ دل جھوم اٹھا۔لیکن 'کبڑابھی زندگی پر'،اوراس کی تأویل'میں ہنستے ہنستے دوہراہوگیاہوں'۔ایک نیاذائقہ تھا۔ہنسنے کے بعددوہراہونااوردوہرے ہونے کے بعدکی مستقل اورمسلسل کیفیت میں جوراز پوشیدہ ہے۔وہ اہلِ علم جانتے ہیں۔اگلاشعراس سے بھی زیادہ تحیرآمیزتھا۔کہ پتھربھی پرندے بن سکتے ہیں۔چاہے علامت کااستعمال ہواہو۔لیکن پتھرتوپرندہ ہوگیاناں!ہواکیسے؟جب اندرتبدیلی واقع ہوئی۔جب تبدیلی واقع ہوتی ہے توکیاکچھ بدل جاتاہے۔
"بات ادھم کہہ دی ،تونے موسے نیناں ملائی کے"۔
بس  ا  یک  با  ر  کسی  نے  گلے لگا یا  تھا    
پھراس کےبعدنہ میں تھا،نہ میراسایہ تھا    
و  ہ مجھ سے ا پنا  پتا پو  چھنےکو آ  ئے ہیں  
   کہ جن سے میں نے اپنا سراغ  پایا تھا
ان دواشعار میں عجب تضادہے۔"کسی نے مجھ سے بھی مجھ کوچھپاکے لوٹ لیا"،کسی نے گلے کیالگایاکہ شاعرایک عجیب کیفیت سے دوچارہوا اوریہ کیفیت تبدیل ہوئی یانہیں اس کاذکرنہیں ہے۔نہ شاعرکی ذات رہی،نہ کائنات رہی۔اب میں نہیں تھا ۔میں ایک احساس تھا کہ لوگ ،یہ نہ سمجھ لیں کہ شاعر دیوانہ یافاترالعقل ہوگیا۔شاعرانتہائی زیرک ہے،ساتھ ہی واضح کردیا'نہ میراسایہ تھا'،یہ گلے لگاناکسی عام شخص کاگلے لگانانہیں تھا۔بل کہ اس نے گلے لگایا اورمادیت چھومنترہوگئی۔یہ مٹی کاجسم کسی ایسے پیکرمیں ڈھلاکہ سایہ بھی گیا۔اب جب کہ شاعراس کیفیت میں ایساگم ہوا کہ :"تُوتُو نہ رہا، مَیں مَیں نہ رہا،جورہی سوبے خبری رہی"،توایک دن انوکھاواقعہ پیش آیا۔' و  ہ مجھ سے ا پنا  پتا پو  چھنےکو آ  ئے ہیں   '،کہ خودان کی ذات گم ہوگئی ہے، پہلے اور دوسرے شعرمیں ایک طویل وقفہ ہیں،ایک اعصاب شکن خاموشی ہے۔اس دوران میں گردشِ دوراں نے کیاستم ڈھایا ہے کہ 'وہ اپناپتا پوچھنے کوآیا  ہے'۔شاعراس لیے بھی حیرت زدہ ہے' کہ جن سے میں نے اپنا سراغ  پایا تھا'۔لیکن شاعرنے اپنی ذات اوراناکوبہ رنگِ دگر، کمال تک پہنچادیا ہے۔کبھی کے دن بڑےکبھی کی راتیں،توانھیں جب اپنی ذات کی تلاش کی جستجوہوئی،تووہ بھی ہمارے پاس آئےہیں۔ایک وقت وہ تھاکہ ہم ان کے طلب گار تھے۔اب وقت یہ ہے کہ وہ ہمارے طلب گارہوکے آئے ہیں۔یعنی ہمارے عشق میں اتنادم خم تھاکہ انھیں ،آنے پرمجبور کردیا۔
رومیں آئےتو وہ خودگرمیٔ  بازار ہوئے
جنھیں ہم ہاتھ لگاکربھی گناہ گارہوئے
وہی بات ،'جوچاہے آپ کاحسنِ کرشمہ سازکرے'،ایک وقت وہ تھایاشرم وحیاکاوہ عالم تھا،تہذیب وشائستگی اس مقام پرتھی،کہ اگرغلطی سے ہاتھ چھوجاتا،تووجودمیں ایک سنسناہٹ اورلرزشِ خفی سی دوڑجاتی،پہروں دل اس زورسے دھڑکتاکہ قیامت ہوتی۔اب جوتہذیب کارنگ بدلا،تمدن کی چولی پہلے تنگ،پھر ٹیڈی،پھرلیر اوراب اسے کیاکہیں،میرے پاس الفاظ نہیں ہیں،یعنی توکاعنواں ہوگئی۔اوریوں وہ رونقِ بازارہوئے۔اب وہ جو اک 'ذراسی چھب تھی'،شمعِ محفلِ بازارتھی۔اقداروروایات کے بدلنے سے ،جسم پرلباس گھٹتے گھٹتے کیاسے کیابن گیا۔لیکن یہ سب باتیں 'رَو'میں آنے سے ہوئیں۔
*    رفتہ رفتہ کپڑے تیرے مختصرہوجائیں گے(سلیم احمد)
*    انہی دوحیرتوں کےدرمیاں موجودہوں میں
سرِ آبِ یقیں عکسِ گماں پھیلا ہوا ہے
اب شاعر شش وپنج میں گرفتارہوا۔حیرت کی دوانتہائیں،درمیان میں شاعرکاخیال،"سرِ آبِ یقیں"(کس قدرخوب صورت ترکیب تراشی گئی ہے) یقیں کاپانی،پھرپانی کی سطح،اوراس کے اوپر(یقیں کاامرت دھارا)،"عکسِ گماں"شک کاسایہ،شک کاپرتو،شک کازہر،پھیل گیا۔اب" نہ جائے رفتم ، نہ پائےماندن "،میں کون ہوں؟میں کیاہوں؟میں کیوںہوں؟مجھ سے پہلے کیاتھا؟مجھ سے بعدمیں کیاہوگا؟میں ہوں یا کہ نہیں ہوں!،"ہیں خواب میں ہنوز، جوجاگے ہیں خواب میں"۔مختصریہ کہ زندگی حیرت کادوسرانام ہے۔یافقظ استفہام ہے۔زمیں وزماں کی حیرتیں، کون ومکاں کی حیرتیں اور حضرتِ انساں کی حیرتیں!اک سلسلۂ سوالات ہے،حل کوئی نہیں،جہاں پہلاسوال ختم ہوتاہے،وہیں سےدوسراسوال شروع ہوجاتاہے۔ظفر اقبال توحیرت میں گم رہے۔اوراس تشکیک سے نکنے میں کام یاب ہوئے یانہیں،کیوں کے اس کے بعد ظفراقبال کی شاعری میں استفہامیہ اندازپیدا ہوگیا۔ یہ استفہامیہ انداز غالب کے استفام سے اس طرح مختلف ہے کہ غالب کااستفہام اہنےاندرجواب بھی رکتھاہے۔جب کہ ظفراقبال صرف سوال اٹھاتاہے۔سلیم احمدکااندازبھی سنتے چلیں:
میں خوابِ سبزتھادونوں کےدرمیاں میں ظفر
کہ آسماں تھا سنہرا، زمین بھوری تھی
میں زمین وآسماں کے درمیاں ایک خوابِ سبز تھا۔اگرمیں ا س زہرکوامت بھی کرلوں تو'دھوکا'بنتاہے۔ورنہ بدبخت،بدقسمت،منحوس، نحوست وغیرہ وغیرہ۔کہ تپشِ بغض وعنادنے آسماں کوسنہراتال بنادہاتھا اورزمیں جل جل کربھوری ہوگئی تھی۔حالتِ اضطرار اپنے عروج پرہے۔کہ سرتاپا مَیں آگ میں تھا۔یافریب کی دلدل میں دھنسا ایک بے بس 'آدمی'۔
آنکھ میں شوخی نہیں چمکے گی آنسوآئے گا
پہلےمیں آیاتھاتیری جانب اب توآئے گا

اندھیرےمیں چہک اٹھتاہوں کیوں کر
یہ کیسی گفت گو میں روشنی ہے

اب کےممانعت بھی اجازت لگی مجھے
دیوار تھی کہ جس کودریچہ سمجھ لیا

یوں بھی نہیں کہ میرےبلانےسے آگیا
جب رہ نہیں سکا تو بہانے سے آ گیا

کہیں چھپائےنہیں چھپتی خوشی اس کی
غم اس کی گود میں بچہ ساجب ہمکتاہے

حرفِ انکار اور اتناطویل
بات کومختصر نہیں کرتا
مگر کیا ہو گیا ہوں، اور، کیا ہونا تھا مجھ کو
مجھے اس رات نیند آتی نہیں ‌لوگو کسی کروٹ
    میں جب احباب کو باہم لڑانا بھول جاتا ہوں
شاعری میں چنز نمایاں ہے/منافقانہ رویے،خودغرضی/اوربدلتی قدروں نے کیاکچھ بدل دیا/اب انسان کیاسے کیابن گیاہے/یہ سب کچھ ظفر کی شاعری میں ہے۔
ہم ہی دونوں کا گزارہ وہاں کیوں کر نہ ہوا
جہاں رہتے رہے مل جل کے ہوا، اور، چراغ
خود کو رسوا کر رہا ہوں شہر میں
اک ذرا ممتاز کرنے کے لئے
تجربہ درتجربہ۔۔۔۔مسلسل سوال،لیکن ابھی وہ بات پیدانہیں ہوئی جو سوال کوجواب بھیبناڈالے/دریچے واہوتے ہین پرہوا نہیں آتی،گھٹن کااحساس ہے لیکن گھٹن کیوں ہے؟کیسے چھٹکارہ ہو،یا پھرشعروہی تاثرپیداکردے کہ جواب کی حاجت نہ رہے ،نہیں ہے۔
میں اس لیے بھی زباں کھولتا نہیں کہ ابھی
سکوت ہی یہاں اظہار کے برابر ہے
بات نئی نہیں ہے،اساتذہ اسے کئی باکہہ چکے ہیں/فقط انداز نیاہے/استفہام پیداکیاہے/ندرتِ انداز ہے۔لیکن کیایہ سب کچھ ہے۔ہاں ایسی شاعرسن کر عام قاری چونکتاضرورہے اگرفقط چونکانا ہے توبہرین انداز ہے۔لیکن کب تک!نہ جمال کی وہ کیفیت کہ دل جھوم اٹھے،نہ کمال کی وہ سامریت کہ بے کلی ،کربِ مسلسل میں ڈھل جائے۔ روز وہی ایک ساغم ایک سی امید/جی چاہتاہے کوئی تیرے سوابھی ہو۔
تجھے میں مانگ رہا ہوں یہ کس بہانے سے
چھپا ہوا ہے مری خواہشِ سوال میں تو

کسی کی آنکھ سے خوابوں کی کرچیاں چن کر
اب ایک عمر سے بیٹھا ہے کس ملال میں تو
پھروہی کلاسیکل خیال ندتِ اداکے ساتھ۔
ہے رخ پہ رنگ، قبا میں  پتنگ اڑتی ہے
طلسم ہوش ربا میں  پتنگ اڑتی ہے
کسی عقب کی ہوا میں  پتنگ اڑتی ہے
پتنگ تواڑادی اب اس کے رنگوں،اس کی شوخیوں ،شوق پرواز،ذوقِ آغاز اورکیوں اڑتی ہے پر بھی کچھ فرمادیجیے۔
وہ لے کر چل رہا ہے سب کو اپنی سرپرستی میں
کسی کو اپنی مرضی سے جدا چلنے نہیں دیتا
یہی حال ظفرکی شاعری کاہے۔کہ" کیاکہہ رہا ہے وہ ،اس کاپتاچلنے نہیں دیتا"۔
کرنی ہے اندھیرے میں ابھی ایک ملاقات
سارے یہ دییے ہم نے بجھانے ہیں تمہارے

لرزا نہیں جن میں کسی لمحے بھی کوئی عکس
ایسے بھی کئی آئنہ خانے ہیں تمہارے
شاعرانی انداز میں رپوٹنگ کے سواکچھ اوربھی ہوتاہے جو ادب میں ضروری ہوتاہے۔ابھی مجلسی اوران دوچاراشعارکی وجہ سے واہ واہ تو ہورہی ہے۔لیکن وہ ظفراقبال جو 'آبِ روں میں تھا،وہ کہاں ہے؟

قتیل شفائی,مظہرفریدی


قتیل شفائی
ریشم کے جس لباس پہ نازاں تھاایک شخص
دیکھاتواس لباس کے اندربدن نہ تھا
جب بھی اس شعرکوپڑھا،"اک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی"۔ایک جھرجھری،ایک نادیدہ خوف کاجال،اندیشے پھن پھیلائے  میری طرف دوڑتے نظر آئے۔میں چونک اٹھا، ۔مجھے معاشرے سے،اپنے آپ سے،ابنِ آدم سےاورانسانیت سے اعتباراٹھتاہوامحسوس ہوا۔یہ کیا ہوا؟ کیایہ سانحہ ہے یاآنے والے حالات کی کوئی خبر،یاحقیقت میں ،ملبوس اجسام سے عاری ہیں۔کیاہم صرف حیوانی سطح پرزندہ رہ گئے ہیں۔
ملبوس جب ہوانے بدن سے چرالیے!!!؟؟؟
اب سمجھ میں آیاکہ"گھنگروکیوں ٹوٹے؟"مجھے آئی نہ جگ سے لاج۔۔۔میں اتنے زورسے ناچی آج۔۔۔کہ گھنگروٹوٹ گئے"
قتیل کو بے خودہونے سے دنیاکے مروجہ رسم ورواج نہیں روک سکے۔اسے اس حقیقت کاادراک ہے کہ گھنگرو یالاج تب ہی اہمیت کی حامل ہے،جب تک عزتِ نفس ہے،لہٰذا "مینوں نچ کے یارمناون دے"۔اورقتیل بے خودی میں مدہوش نہیں ہوا،لیکن 'من توشدی'کی کیفیت میں گھنگرو ٹوٹ گئے۔"چہ قیامتی کہ نمی رسی زکنارِ ما بہ کنارِ ما"۔
اتنے میں قتیل کے بہت سے دوسرے اشعار،گشتِ باز کی  صورت گنبدِ تخیل میں گونجنے لگے۔
گستاخ ہواوں کی شکایت نہ کیاکر
اڑجائے دوپٹہ تودھنک اوڑھ لیاکر
ننگے نظر آجائیں اگرعیب کسی کے
توکانپتے ہونٹوں سے انھیں ڈھانپ دیاکر
کستاخ ہوائیں یانگاہیں ہوں،ان کی شکایت نہیں کرنی،بل کہ قتیل نے یہاں  اظہارِحسن کوایک اورپہلوعطاکیاہے۔"دھنک اوڑھ لیاکر"تاکہ ہوائیں شرمندہ بھی نہ ہوں۔اورآئندہ جسارت بھی نہ کریں۔یہ شعرایک علامت میں ڈھلتاہوامحسوس ہوتاہے۔اب "گستاخ ہواؤں"کسے  یا کن کو،کہا گیا ہے؟یہ بات توکوئی ہم نشیں ہی بتاسکتاہے۔اورصرف اسی پر اکتفانہیں کیا۔بل کہ ایک قدم اورآگے بڑھ کر،اگرکوئی "سرِ بازر می رقصم" کاڈھونگ رچاتے ہوئے بے سدھ ہوجائے،اوراسے شد بدنہ رہے تو"کانپتے ہونٹوں سے انھیں ڈھانپ دیاکر"۔زندہ باد!اے قتیل زندہ باد!
جب بھی آتاہے مرانام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
اب تکلیف صرف اتنی ہے کہ میرانام ترے نام کے ساتھ کیوں آتاہے۔سیدھی بات تویہ ہے ۔محنت کرحسدنہ کر،لیکن یہ توایک جملہ معترضہ ہے۔اصل میں تو وہ خبثِ باطن ہے،جوچھائے،چھپتانہیں ہے۔اس لیے توقتیل بارہا کہتارہا کہ،"ان گنت میرے خدااورمیں اکیلاآدمی"۔

Wednesday, 16 January 2013

آزمائشی متحان،جماعت ششم(اردو)


آزمائشی متحان،جماعت ششم(اردو)ٹیسٹ نمبر:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاریخ:۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:پاکستان نے کتنے قسم کے میزائل بنائے ہیں۔نام لکھیے۔
جواب:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:درج ذیل الفاظ اورمحاورات کے جملے بنائیں۔
جواب:
چھکے چھڑادینا۔شکست دینا

جنون سرد پڑنا۔

جوق درجوق۔

سکہ بٹھانا۔

میلی آنکھ سے دیکھنا۔

نیست ونابودکرنا

سوال: کیاپاکستان ایٹمی طاقت ہے؟
جواب:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:ستمبر 1965ء کی جنگ کتنے روز جاری رہی؟
جواب:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:یومِ دفاع کب اورکیوں منایاجاتاہے؟
جواب:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:مزاحیہ ادب سے کیامرادہے؟
جواب:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:مزاح نگار کسے کہتے ہیں؟ جواب:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:الفاظ  اورمحاورات کو جملو ںمیں استعمال کریں۔
جواب:
ہاتھ لٹکاتے آنا۔

پلے باندھ لینا۔

عہدہ برآہونا۔

سوال پیداہونا۔

ہاتھ لٹکاتے آنا۔

سوال:واحد کے جمع اورجمع کے واحد بنائیں۔
واحد
جمع
واحد
جمع
واحد
جمع
اَصل

اَمر

بَحر

برج

برق

بیت

حَب

حد

حَرب

حرف

حق

خط

دہر

راس

رسم

رمز

سجدہ

سیف


Sunday, 13 January 2013

!مرے خدا!مرے دل(نظم۔مجید امجد)۔مظہرفریدی

             !مرے خدا!مرے دل

مرے ضمیرکے بھیدوں کوجاننے والے ،                         تجھے تواس کی خبرہے،مرے خدا،مرے دل،
کہ میں ان آندھیوں میں عمربھر،جدھربھی بہا
کوئی بھی دھن تھی میں اس لہرکی گرفت میں تھا
جوتیری سوچ کی سچائیوں میں کھولتی ہے ہے                  جس کی رومیں تری ضو،مرے خدا،مرے دل،
مرے لہومیں تری لَوہے دھڑکنوں کا آلاؤ                      تجھے تواس کی خبرہے،مرے خدا،مرے دل،
کہ اس طلسم ِ جہاں کے کسی جھمیلے میں ،
ذراکبھی جوقدم میرے ڈگمگا بھی گئے،

تواک خیال ابدموج سلسلوں کا خیال                               مرے وجودمیں چنگاریاں بکھیرگیا،
نہ دکھتی سانس کے ارماں ،نہ جیتی مٹی کے لوبھ                 نہ کوئی روگ ،نہ چنتا،نہ میں ،نہ میرے جتن
جومجھ میں تھابھی کوئی گن ترے ہی گیان سے تھا               کچھ ا ورڈوب کے گہرائیوں میں جب دیکھا
 توہرسلگتی ہوئی قدرکے مقّدرمیں                                      نہاں تھے تیرے تقاضے ،مرے خدا،مرے دل،

ہیں تیری کرنوں میں کڑیاں چمکتے قرنوں کی،                     تجھے تواس کی خبرہے،مرے خدا،مرے دل،
کہ اس کرّےپہہے جوکچھ بھی کےپہلومیںہیں                     وہ شعلے ،جن پہ شکن ہے،تری ہی کروٹ کی
ترے ہی دائرے کا جزوہیں وہ دورکہ جب                      چٹانیں پگھلیں ،ستارے جلے،زمانے ڈھلے
وہ گردشیں جنہیں اپناکے ان گنت سورج
 مرے سفرمیں بجھے توانہی اندھیروں سے                       دوامِ دردکی اک صبح ابھری ،پھول کھلے
                                                                           مہک اٹھی تری دنیا،مرے خدا،مرے دل،
گھلا ہوامری سانسوں میں ہے سفرتیرا                          تجھے تواس کی خبرہے،مرے خدا،مرے دل،
کہ گویہی میراپیکرضمیرخاک سے ہے،
مگراسی مرے تپتے بدن کی بھٹی سے
کشیدہوتی ہوئی ایک ایک ساعت ِ زیست،                       وہ گھونٹ زہرکا ہے جومجھی کوپیناپڑا
یہ زہرکون پیئے؟کون اپنے سینے میں
یہ آگ انڈیل کے،ان ساحلوں سے بھیدچنے                 جہا ں پہ بکھرے ہیں صدہا صداقتوں کےصدف!
یہ زہرکون پیئے؟کون بجھتی آنکھوں سے

 غروبِ وقت کی خندق کے پاردیکھ سکے
جہاں عمرکے بیاباں میں عمرپیما ہے
حقیقتوں کا وہ دھارا،کہ جس کی لہروں میں آج             گلوں کا رس بھی ہے فولادکا پسینہ بھی !
مراشعورانہی گھاٹیوں میں بھٹکا ہے
 قدم قدم پہ مری ٹھوکروں کی زدمیں رہیں
کرخت ٹھیکریاں ان کٹھورماتھوں کی                         جوزندگی میں ترے آستاں پہ جھک نہ سکے
 قدم قدم پہ سیہ فاصلوں کے سنگم پر
بس اک مجھی کواس ان مٹ تڑپ سے حصہ ملا          تری جرس کی صدامیں ہیں رتجگے جس کے
یہی تڑپ تری کایا،یہی تڑپ ،مراانت
جوانت بھی ہو،سوہو،میں تومٹتی مٹی ہوں
دھڑکتی ریت کے بے انت جھکڑوں میں صدا              رواں ہیں ،ترے محمل !،مرے خدا،مرے دل،

تری ہی آگ کی میٹھی سی آنچ ہیں مرے دکھ           یہ رازتوہی بتااب ،مرے خدا،مرے دل،
یہ بات کیاکہ ترے بے خزاں خزانوں سے
جو کچھ ملا بھی ہے مجھ کوتواک یہ ریزۂ درد ہیں             جس کی جھولی میں کھلیان تیرے شعلوں کے
اوراب کہ سامنے ،جلتی حدوں کی سرحدہے                    ہرایک سمت مری گھات میں ہیں وہ روحیں
جواپنے آپ میں اک راکھ کا سمندرہیں
یہ روحیں ،بس بھری ،ذی جسم ،آہنیں سائے
انہی کے گھیرے میں ہیں اب یہ بستیاں یہ دیار
کہیں یہ سائے ،جوپتھرائی آرزوؤں کو،
سرابِ زرکی کشش بن کے گدگداتے ہیں                      مری لگن کونہ ڈسنے لگیں ،میں ڈرتاہوں
کہیں یہ سائے ،یہ کیچڑکی مورتیں ،جن کے
 بدن کے دھبوں پہ رَختِ حریرکی ہے پھبن            مری کرن کی نہ چھب نوچ لیں ،میں ڈرتاہوں
کہیں یہ آگ نہ بجھ جائے جس کے انگ میں                   ترے دوام کی انگڑائیاں ،میں سوچتا ہوں،
نہیں ،یہ ہونہ سکے گا !جویوں ہوابھی توپھر؟
نہیں !ابھی تویہ اک سانس !ابھی توہے کیاکچھ !
ابھی توجلتی حدوں کی سرحدیں ہیں لا محدود،
ابھی تواس مرے سینے کے ایک گوشے میں
کہیں،لہوکے تریڑوں میں،برگِ مرگ پہ ا ک
کوئی لرزتاجزیرہ سا تیرتاہے جہاں
 ہراک طلب تری دھڑکن میں ڈوب جاتی ہے                ہراک صداہے کوئی دورکی صدا،مرے دل
                                                                           مرے خدا،مرے دل