Wednesday, 12 December 2012

خاکہ نگاری۔مظہرفریدی


خاکہ نگاری۔مظہرفریدی۔
سیرت نگاری،سوانح عمری اورآپ بیتی بھی خاکہ نگاری کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے سے بنی ہیں۔ادباء موج میں آکراپناخاکہ بھی تو اڑاتے ہیں۔ایسی مثالیں خطوط غالب میں عام ہیں۔کبھی اپنانام لے کر "رقیب"کورقیبِ روسیاہ بنانے کاکام بھی لیاجاتارہاہے۔
*    ہجوِ نگاری بھی تو ایک خاکہ  ہی تھی۔لیکن کس قسم کی خاکہ نگاری تھی ؟۔۔۔۔
*    شہرِ آشوب بھی توایک خاکہ نگاری ہی تھی۔اوراس میں جگرِ لخت لخت کے علاوہ عصمتوں کے چراغ بجھے،بانکپن کے خواب لٹے،معصومیت کے گلاب کٹے،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*    قصیدہ بھی توایک خاکہ تھا جس میں ہر کس وناکس کو ظلِ الہی کہاگیا۔اوران لکھنے والوں نے تاریخ کاچہرہ بگاڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*    مرثیہ بھی تو ایک خاکہ نگاری ہی تھی کہ جس مین مظلوم اورظالم کے ہر نقشِ کو نقشِ لازوال بناکردکھایاگیا۔کیاواقعہ کربا  کومرثیہ(خاکہ )کی صورت میں پیش کرنا شعراءکاکارنامہ نہیں اورخاکہ نگاری کی عمدہ مثال بھی۔۔۔۔۔۔
*    پھر سیرت النبیﷺ ،کیاخاکہ کی ذیل میں نہیں آتی،ہاں یہ کینوس بڑاہوجاتاہے۔بنیادی اصول وضوابط تووہی رہتے ہیں۔
*    پھرسیرت صحابہ اورسیرتِ اہلِ بیت اطہار کیا خاکہ نگاری نہیں ہیں۔
*    سیرت اولیائے عظام اورملفوظاتِ اولیائے کرام بھی خاکہ نگاری کے ضمن میں شامل نہیں ہوں گے؟
*    جتنے بھی ہمارے پسندیدہ ہیرو،ملکی وقومی سطح کے رہنما اورعلاقائی حوالے ہیں کیا وہ کاکہ نگاری میں شامل نہیں ہوں گے۔
*    ہم جوروزانہ قہوہ خانوں ،چائے خانوں اورمختلف جگہوں پر بیٹھ کرگپ شپ کے نام پر جوکچھ کرتے ہین کیا وہ خاکہ اڑانے میں نہیں آتا۔
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ خاکہ نگاری کی حدودوقیودکو طے کرلیاجائے۔اسے اصول وضوابط کی زنجیرسے جکڑ دیاجائے۔اورہھرخاکہ نگاری کی ایک مخصوص تعریف متعین کرکے خاکہ نگاری کی جائے۔کیاایساممکن ہے؟ آج تک ادب کیاہے؟شاعری کیاہے؟ ناول کیاہے؟افسانہ کیاہے؟وگیرہ وغیرہ کی کسی ایک تعریف پرتواہلِ علم وفن متفق نہین ہوئے کیا خاکہ نگاری کی کسی مخسوص تعریف پرمتفق ہوجائیں گے؟ناں بھائی ناں!"ایسی محبت سے ہم بازآئے"،یہ توبھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے والی بات ہے۔آپ ایک تخلیقی کام کررہے ہیں کرتے رہیں۔کون کیاکررہاہے۔یہ مت سوچیے۔یہ دیکھیے کہ آپ اپنے حصے کاکام کررہے ہیں۔

موت کالمحہ جاناں،مظہرفریدی


موت کالمحہ جاناں
تو نے دیکھا ہی نہیں موت کالمحہ جاناں
 توابھی زیست کے کم و بیش کو سمجھی کب ہو؟
 موجِ حیات میں اٹھتے ہوئے زیر و بم
 بہاروں کا ترنم، کبھی جاڑوں میں درختوں کا ماتم
 کلی کاوہ کھِلتا ہو مصحفِ گل
 اور شام تلک غنچے کابکھرتا دامن
 بکھری ہوئی پھول سی پتیاں، اجڑا ہوا آنگن
تو ابھی ہجومِ  چشمِ تماشا ئی کیتمنائی ہے
ہجومِ غیر سناتوہے ،دیکھانہیں تم نے
تو ہےابھی خواب ستاروں کی دنیامیں مگن
چاندراتوں میں ،اپنی زلفوں کے پیچ وخم سے
کس مَلَک کے کاندھے پہ تجھے نیند آئی ہے
تم چکھاہی نہیں دردِ ہجرمیں خواب کی لذت کو
تم کسے ڈھونڈو گی،ابھی تو خود گم ہو
اندھی گلی کے اندھیرے بھی نہیں دیکھے تم نے
اور  یہ موت،یہ سانس کارُکنا،یہ زماں سے کٹنا
دیکھا ہے مگراس کوکبھی طاری نہیں کیا،خود پر
یہ نیند کے لمحے،یہ خوف دریچے،یہ خواب جزیرے
ان کی حقیقت کابھی ادراک کہاں ہے تم کو؟
اورتواور"مَحَبَّت"کابھی ،علم کہاں ہے تم کو!
تم ابھی خیال تمناؤں کی دنیامیں مگن ہو!
وصل کے سپنوں میں چنے لعل وجواہر تم نے
تم نے پیکرِ زیست پہ موت کالمحہ نہیں دیکھا!
محبت کے لبوں پہ ،موت کی مسکاں عجب ہوتی ہے
زیست کے چہرے پہ ،دنیاکادھواں نہیں دیکھا
تم کھلتی کلی ہو،مگر پھول کی الجھن سے ابھی ناواقف ہو!
وجودِ گل کواندیشۂ خوف وخطراوربھی ہے!
مصحفِ گل بن کے بکھرنے کاسفراوربھی ہے!

وہ ایک خوب رو تتلی!،مظہرفریدی


وہ ایک خوب رو تتلی!
وہ ایک خوب رو تتلی!
پھولوں اورپھلواڑیوں میں
یوں جھومتی تھی ،گاتی تھی
کہ جیسے اس دنیامیں
 مشک اورصباہی ہے
ایک پھول سے دوسرے تک
مسکان اورتبسم ہے
مگر!ایک دن اچانک ہی
آوارہ ہواکااک جھونکا
اس کے چمن سے بھی گزرا
اس کے ننھے سے دل میں
خوف نے جگہ کرلی
وہم بھی وہیں کہیں تھا
اگرچہ،فصلِ گل ہے اب تک
مگر!اس کی دنیامیں
خوف کاک پہرہ ہے
وہ خوب روحسیں بھی ہے
مگرذراسی کم دل ہے!
ذراذراسی باتوں پر
گم نام سی اک آہٹ سے
 یوں بدک سی جاتی ہے
جیسے آہوئے ختن اکثر
سنسناہٹوں کوسن کر
کسی گم نام ٹیلے پر
چندسمے کے لیے
خودمیں سمٹ ساجاتاہے
مگریہ خوب روتتلی
خواب روک سکتی ہے
ہواؤں کے سندیسوں کو
اپنے آہنی عزم سے
خودہی موڑ سکتی ہے
کہ،وہ خودہی اب چمن بھی ہے
دوپھول اورایک کلی کی وہ
ایک انجمن بھی ہے!

Sunday, 9 December 2012

فرموداتِ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ


فرموداتِ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ

آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے وہ بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب کیا جس کی ضیا باری سے آج بھی تاریخ پاکستان روشن ہے۔ قائد اعظم نے فرمایا :-
مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا "

6دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائد اعظم نے فرمایا:-
"
وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں ، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے ، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے ؟ وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرانِ کریم ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ، قرآنِ مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا ، ایک کتاب ، ایک رسول ، ایک امت "

قائد اعظم نے 17 ستمبر 1944ء کو گاندھی جی کے نام اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا:-
" قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے"۔ اس میں مذہبی اور مجلسی ، دیوانی اور فوجداری ، عسکری اور تعزیری ، معاشی اور معاشرتی سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ یہ مذہبی رسوم سے لے کر جسم کی صحت تک ، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق تک ، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرائم تک ، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر آخرت کی جزا و سزا تک غرض کہ ہر قول و فعل اور ہر حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہذا جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو حیات اور مابعد حیات کے ہر معیار اور پیمانے کے مطابق کہتا ہوں "

10
ستمبر 1945 ء کو عید الفطر کے موقع پر قائد اعظم نے فرمایا :-
" ہمارا پروگرام قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن غور سے پڑھیں۔ قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی"

1947
ء کو انتقالِ اقتدار کے موقع پر جب حکومت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ :
" میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوگا اور ویسے ہی اصول پیش نظر رکھے جائیں گے جن کی مثالیں اکبر اعظم کے دور میں ملتی ہیں "
تو اس پر قائد اعظم نے برجستہ فرمایا :
"
وہ رواداری اور خیر سگالی جو شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے حق میں برتی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تو مسلمانوں کی تیرہ صدی قبل کی روایت ہے۔ جب پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہودیوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ نہ ّ صرف انصاف بلکہ فیاضی کا برتاو کرتے تھے۔ مسلمانوں کی ساری تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہم پاکستانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہی پاکستان کا نظام چلائیں گے"

2 جنوری 1948 ء کو کراچی میں اخبارات کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے قائد اعظم نے ارشاد فرمایا :-
"
اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے "
14
فروری 1948 ء کو قائد اعظم نے بلوچستان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا :-
" میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ ء عمل میں ہے جو ہمارے عظیم واضع قانون پیغمبر اسلام نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اخلاقی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو۔"

13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا:-
"
ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں"

یکم جولائی 1948 ء کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا :-
" میں اشتیاق اور دل چسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ریسرچ آرگنائزیشن بینکاری کے ایسے طریقے کس خوبی سے وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر دیے ہیں اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ یہ تباہی مغرب کی وجہ سے ہی دنیا کے سر منڈلا رہی ہے۔ مغربی نظام انسانوں کے مابین انصاف اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے "

قائدِ اعظم کے بارے میں اہلِ نظر کے خیالات



علامہ سید سلیمان ندوی

  عظیم سیرت نگار، برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے ١٩١٦ء میں مسلم لیگ کے لکھنئو اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔
 
اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھے
کوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہا
جبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہی
جبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہا
جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے
جس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا
بادہء حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکے
دور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہا
ملتِ دل بر کے گو اصلی قوا بیکار ہیں
گوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہا
ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید
ڈاکٹر اس کا اگر " مسٹر علی جناح" رہا



 مولانا ظفر علی خان
تاریخ ایسی مثالیں بہت کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبور و محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سرو سامانی اور مخالفت کی تندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا کر رکھ دی ہو ۔     “

 علامہ عنایت اللہ مشرقی
   خا کسار تحریک کے بانی اور قائدِ اعظم کے انتہائی مخالف علامہ مشرقی نے قائد کی موت کا سن کر فرمایا -
اس کا عزم پایندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا تھا۔   

 لیاقت علی خان
   پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور قائد کے دیرینہ ساتھی نواب زادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا۔
قا ئدِاعظم بر گزیدہ ترین ہستیوں میں سے تھے جو کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ ان کا شمار عظیم ترین ہستیوں میں کرے گی     “

 شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ
    ایک خط میں علامہ نے قائد کو لکھا "برطانوی ہند میں اس وقت صرف آپ ہی ایسے لیڈر ہیں جن سے رہنمائی حاصل کرنے کا حق پوری ملتِ اسلامہ کو حاصل ہے"۔علامہ کی بیماری کے دوران جواہر لال نہرو ان کی عیادت کو آئے ۔ دورانِ گفتگو نہرو نے حضرت علامہ سے کہا "حضرت آپ اسلامیانِ ہند کے مسلمہ اور مقتدر لیڈر ہیں کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ آپ اسلامیانِ ہند کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں۔" تو حضرت علامہ نے فرمایا، "جواہر لا ل! ہماری کشتی کا ناخدا صرف مسٹر محمد علی جناح ہے میں تو اس کی فوج کا ایک ادنیٰ سپاہی ہوں۔"


مفتئ اعظم فلسطین سید امین الحسینی
قائدِ اعظم دسمبر 1946ء میں لندن سے واپسی پر قاہرہ میں ٹھہرے۔یہیں پر اخوان المسلمون کے عظیم رہنما امام حسن البنا شہید بھی آپ سے ملے اور آپ کو قرآن کریم کا ایک نسخہ بھی پیش کیا یہ نسخہ اب بھی مقبرہ قائد کے ساتھ واقع میزیم کی زینت ھے۔ انہی دنوں مفتی اعظم قاہرہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک تقریب میں آپ نے قائد کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا۔

" میں نے محمد علی جناح سے گفتگو کی ہے۔ مجھ سے زیادہ برطانوی ملوکیت کا دشمن شاید ہی کوئی ہو۔ میں نے محمد علی جناح کے خیالات کو انگریز دشمنی کی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ وہ حقیقتاّ آزادی چاہتےہیں اور آزادی کے لیے انگریز سے مقابلے کا عزم رکھتے ہیں۔ میں ان سے گفتگو کے بعد اس نتیجہ پرپہنچا ہوں کہ جناح صاحب نہ صرف دستوری اور آئینی شخصیت کے حامل ہیں بلکہ انقلابی رہنما بھی ہیں۔ انقلابی افکار و خیالات ان کے دل و دماغ میں راسخ ہو چکے ہیں۔ مجھے اس امر کا یقین ہو گیا ہے کہ ہندوستان کے عوام اپنی آزادی کے لیے برطانوی شہنشاہت اور ہندو سرمایہ داری دونوں کے خلاف لڑنے کا عزم کیے ہوئے ہیں"۔
پاکستان بننے کے بعد جناب مفتئ اعظم نے فرمایا، "اللہ تعالیٰ نے ہمیں فلسطین کے بدلے میں پا کستان کا خطہ عنایت فرمایا ہے۔"


 مولانا ابوالکلام آزاد

"
قائدِ اعظم محمد علی جناح ہر مسئلے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے تھے اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے" ۔


فخر الدین علی احمدسابق صدر بھارت

"
میں قائدِ اعظم کو برطانوی حکومت کےخلاف لڑنے والی جنگ کا عظیم مجاہد سمجھتا ہوں" ۔


 کلیمنٹ اٹیلی وزیرِ اعظم برطانیہ

"
نسب العین پا کستان پر ان کا عقیدہ کبھی غیر متزلزل نہیں ہوا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے جو انتھک جدو جہد کی وہ ہمییشہ یاد رکھی جائے گی "۔

 مسولینی وزیرِ اعظم اٹلی


"قائدِ اعظم کے لیے یہ بات کہنا غلط نہ ہو گی کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت تھے جو کہیں صدیوں میں جا کر پیدا ہوتی ہے" ۔

بر ٹرینڈ رسل برطانوی مفکر

"
ہندوستان کی پوری تاریخ میں کوئی بڑے سے بڑا شخص ایسا نہیں گزرا جسے مسلمانوں میں ایسی محبوبیت نصیب ہوئی ہو" ۔

مہاتما گاندھی

"
جناح کا خلوص مسلم ہے ۔ وہ ایک اچھے آدمی ہیں ۔ وہ میرے پرانے ساتھی ہیں ۔ میں انہیں زندہ باد کہتا ہوں" ۔


مسز وجے لکشمی پنڈت

"
اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا "۔


 ماسٹر تارا سنگھ سکھ رہنما

"
قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی ۔ اگر یہ شخص سکھوں میں پیدا ہوتا تو اس کی پوجا کی جاتی"۔


 سر ونسٹن چرچل

برطانوی وزیرِ اعظم "مسٹر جناح اپنے ارادوں اور اپنی رائے میں بے حد سخت ہیں ۔ ان کے رویے میں کوئی لوچ نہیں پایا جاتا۔ وہ مسلم قوم کے مخلص رہنما ہی نہیں سچے وکیل بھی ہیں"۔


 مسز سروجنی نائیڈو


مسز سروجنی نائیڈو بلبلِ ہند اور سابق گورنر یو پی کے تاثرات قائدِ اعظم کے متعلق۔ "ایک قوم پرست انسان کی حیثیت سے قائدِ اعظم کی شخصیت قابلِ رشک ہے۔ انہوں نے ذاتی اغراض کے پیشِ نظر کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اپنی بے لوث خدمت کے عوض ہندوستان کے مسلمانوں کے لیڈر ہیں ۔ ان کا ہر ارادہ ہر مسلمان کے لیے حرفِ آخر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ان کا ہر حکم مسلمانوں کا آ خری فیصلہ ہے جس کی انتہائی خلوص کے ساتھ لفظ بہ لفظ تعمیل کی جاتی ہے"۔


پروفیسر اسٹینلے

"
جناح آف پا کستان" کے مصنف پروفیسر اسٹینلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکہ اپنے کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں ۔
" بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے

اقبال کا پیغام خودی،مظہرفریدی


اقبال کا پیغام خودی
اقبال کے پیغام اور فکر کا مرکزی نقطہ ان کا تصور خودی ہے۔ یہ وہی تصور خودی ہے کہ جس نے اقبال کی شخصیت کو بقاء دوام عطا کیا اور یہی وہ ہے تصور ہے جس نے اقبال کو نظریہ پاکستان دینے پر مجبور کیا اور اسی تصور خودی میں خود پاکستان کی بقاء اور ملت اسلامیہ کا عروج مضمر ہے ۔ ۔ ۔ 
بقول اقبال !
خودی کے ساز سے ہے عمر جاوداں کا سراغ
خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ
خودی کیا ہے ؟ درحقیقت خود سے آگاہی ہے کہ اقبال کہ اس پیغام کی اصل حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ۔مَنْ عَرَفَ نَفْسَه فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه" جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا۔ اس نےاپنے رب کو پہچان لیا"۔
گویا خودی کا یہ تصور خود شناسی سے شروع ہوکر بندے کو خدا شناسی تک لے جاتا ہے اور اس سفر میں بندہ کو بقاء و دوام تب نصیب ہوتا ہے کہ جب بندہ اپنی خودی کی حقیقت کو پہچان کر خود اپنی ہی خودی میں گم ہونے کی بجائے اپنی خودی کو خدا شناسی میں گم کردیتا ہے تب بندہ مقام فنا سے مقام بقا پر فائز ہوجاتا ہے ۔ یعنی انسان کا شعوری سفر اپنے احساس نفس سے اپنی معرفت اور پہچان کی حقیقت کے ساتھ جتنا آگے بڑھے گا اسے اتنا ہی اپنے رب کی معرفت حاصل ہوگی انسان جتنا اپنی ذات پر غور کرتا ہے، اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے اتنا ہی اسے اپنے رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور یہ معرفت اس کو رب کی محبت میں فنایت پر مجبور کرتی ہے گویا جب بندہ اپنی خودی کو پہچانتا ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچتا کہ حقیقت میں وہ کیا ہے ایسے میں پھر وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے:
میں کیا ہوں ؟            اور مجھ میں میرا ہے ہی کیا ؟         یعنی کی میرے وچ میرا
اور اس طرح بندے کو اپنے عجز اور کم زوری کا حقیقی ادراک ہوجاتا ہے جو کہ بندہ کے لیے اپنے رب کے سامنے عاجزی و تذلل کا باعث بنتا ہے اور یوں بندہ اپنے رب کے سامنے عاجز ہوکر جھکتا چلا جاتا ہے اور ایسے میں جب بندہ اپنی کمزوری و عاجزی کا اعتراف کرتے ہوئے جتنی عاجزی سے جھکتا چلا جاتا ہے. اتنا ہی وہ صمد  ذات اپنی عظمت و رفعت اور شان کی معرفت و ادراک کے دروازے اس پر کھولتی چلی جاتی ہے اور پھر اسی معرفت شان معبودیت کے صدقے رب تعالیٰ اپنے بندے کو مقام عبدیت پر فائز کرتا ہے۔
لہذا جب بندے کو رب کی شان معبودیت اور اپنے مقام عبدیت کا علم ہوجاتا ہے تو اسے رب کی عظمت اور اپنی حقیقی عاجزی کا ادراک ہوجاتا ہے تو پھر وہ بندہ اپنی رضا، رب کی رضا میں گم کردیتا ہے۔ وہ اپنے ہر عمل میں رب تعالیٰ کی رضا، اس کی منشاء اور اس کے اذن کا طالب رہتا ہے۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو رب تعالیٰ اس کو شان عبودیت عطا کرتا ہے پھر وہ بندے کو وہ بھی عطا کرتا ہے جو اس کی (یعنی رب کی ) اپنی رضا ہوتی ہے اور وہ بھی عطا کرتا ہے جو خود بندے کی رضا ہوتی ہے اور یہی وہ مقام کہ جہاں پر آکر اقبال علیہ رحمہ کی روح ٹرپ اٹھی اور وہ تڑپ کر بول اٹھے کہ ۔ ۔۔۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے