Friday, 21 September 2012

مجید امجد۔مجیدامجدکوسمجھنے کے لئے,مظہرفریدی،مطبوعہ الزبیر اردواکیڈمی بہاول پور

مجیدامجدکوسمجھنے کے لئے
                اردوزبان وادب میں تین شعراءایسے ہیں ,جواپنی مثال آپ ہیں،میرتقی میرؔ، میرزااسداللہ خاں غالبؔ اور علامہ محمد اقبالؒ۔ اب اس میں ایک اور نام مجیدامجدکے کا اضافہ ہوچکا ہے۔میرتقی میرخدائے سخن کہلائے، غالب کواپنے دورمیں وہ پذیرا ئی نہیں ملی جس کےوہ حق دارتھے۔محمدحسین آزادحق شاگردی ( ذوق) ادا کرنے کی پاداش میں خود نامعتبر ٹھہرا (کیوں کہ عظیم تخلیق کارکے فن کے خلاف لکھنااپنی ذات اور شخصیت کو داؤ پرلگانے کے مترادف ہوتاہے)۔
علامہ اقبالؒ خوش نصیب ہیں کہ انہیں زندگی میں اعتباراورمقام ملا۔ مجیدامجدکے ساتھ غالب والامعاملہ درپیش رہاہے۔ مجیدامجدکوبھی زندگی میں وہ مقام نہیں مل سکا۔جس کے وہ حق دار تھے ۔ اگرچہ حالات وواقعات کی نوعیت قطعاً مختلف ہے۔ مجیدامجدبے نشاں ، پابہ گل،نہ رفعتِ مقام،  نہ شہرتِ دوام، لیکن لوح دل!لوح دل! کہنے والا گوشہ نشیں شاعرہے۔
 جدیدشاعری میں تین شاعروں کے نام چھائے رہے۔فیض،راشد اورمیراجی۔ لیکن اب ایک نام اوربھی ان کے ساتھ لیاجانے لگاہے،وہ مجیدامجدکا نام ہے۔ اگرچہ ادب سے وابستگی اور پسندکا معاملہ ذاتی نوعیت کا ہوتاہے۔لیکن یہ پسندیدگی ذاتی ہونے کے علاوہ جدید ذرائع ابلاغ اور تعلقات کی مرہونِ منت بھی ہوتی ہے۔اگرچہ تادیربرقرارنہیں رہتی۔
                اس طرح وہ لوگ جومعا شرے میں کسی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں انہی کی آواز گشتِ بازکی صورت کانوں میں پڑتی رہتی ہے۔یوں فکرپرلاشعوری طورپراثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں۔بعض اوقات یہ صورتِ حال بدل بھی جاتی ہے۔یہ عموماً اس وقت ہوتاہے جب کوئی ادبی تحریک جنم لیتی ہے،یاادبی رحجان میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔
                ادب کا عام طالب علم جدیدادب میں پہلے پہل فیض ،راشداورمیراجی کے ناموں سے واقفیت حاصل کرتاہے۔فیض احمدفیض اور ترقی پسندتحریک کاچرچا عام ہونے کی وجہ سے،فیض کی طرف متوجہ ہوتاہے۔
لیکن ادب کاسچاقاری کسی ایک مقام پرنہیں رکتا۔اپنے مزاج کی مناسبت سے شاعری کا مطالعہ کرتا ہے۔راقم بھی ایک عام طالب علم ہے،نظم جدیدکاڈنکا بج رہا تھا۔نظم جدیدکی طرف متوجہ  ہوناپڑا ۔ راشداورمیراجی سے واسطہ پڑا۔ راشدکی "حسن کوزہ گر " اور"سباویراں"پڑھیں۔ میراجی کی "سمندرکا بلاوا" نے متأثرکیا۔فیض کی نیم رومانی اورنیم سیاسی نظموں نے بھی مزادیا۔ لیکن ادب کاسنجیدہ قاری زیادہ دیررومانی سراب میں گرفتار نہیں رہ سکتا۔ایساہی ہوا،  موسم بدلا اوررت گدرائی یوں اہل جنوں  کے    بے باک ہونے کا وقت آیا۔ایک اضطراب   نے جنم لیا۔ جس شاعرکے کلام تک رسائی ہوسکی اسے پڑھا۔ ایک وقت ایساآیا،جی شاعری سے اچاٹ ہوگیا۔
                افسانہ ،ناول اورانشائیہ کامطالعہ کیا،سفر نامے پڑھ ڈالے ،تنقیداس دوران میں مطالعے کا حصہ رہی۔اقبال کا مطالعہ کئی بارسوچ سراب میں رہنمائی کرتارہا۔آخردل نے آواز دی ،مجیدامجد کا مطالعہ کیا جائے۔یوں مجیدامجدکامطا لعہ شروع ہوا۔فیض کی"نسخہ ہائے وفا"کئی بار مطالعے سے گزر چکی تھی۔"کلیات ن م راشد"کامطالعہ کیا۔"کلیات میراجی " خریدی۔معاملہ پیچیدہ ہوتاگیا۔اقبال کی کلیات (اردو)کامطالعہ پھرکیا۔یوں دل نے کہا جدیدشعراءمیں مجیدامجدنہ صرف اہم ترین شاعر ہے ،بلکہ اس گروہ کاسرخیل بھی ہے۔
                مجیدامجدکی ابتدائی نظمیں پابندہیں۔مجیدامجدکا مطالعہ بہت وسیع اورعمیق تھا ۔ کیٹس اور شیلے کا مداح سیون برن سے متأثر، مجیدامجدکی شاعری میں اگرکسی اردو شاعر کا اثرہے،تووہ اقبال ہیں۔مجیدامجدتمام عمرکنجِ خلوت میں زیست کے کڑے لمحات کومصحفِ جان پربرداشت کرتا رہا ۔ اورجب یہ طاہرخلوتِ اوراق سے اڑگیاتوگنبدِتنہائی سے وہ گونج ابھری جوگنبدِنیلوفری میں پھیل گئی۔مجیدامجدتواس دعاکے ساتھ رخصت ہوا۔
اﷲ ! مجھ کود ید ۂ  بینند ہ کرعطا               
مولا !توہی دوائے دل ناصبوردے
                اب بازگشت اورگشتِ باز کاعمل ہورہا ہے۔شبِ رفتہ کامسافرتوجاچکا۔لیکن ان گنت سورج تک کے حوالے اورنشاں دنیائے ادب کامعتبرحوالہ ہیں۔ڈاکٹرخوا جہ زکریاّنے کلیات مرتب کرکے ادب کے طالب علموں پرفرض کردیاہے،کہ اس شاعرِبے نشاں ،پابہ گل،کوگلاب کے پھولوں کے نذرانے بھیجیں۔کیوں کہ مجیدامجددنیائے ادب سے گیانہیں، لوٹ آیاہے۔زندہ تھا،توکنجِ خلوت میں تھا،وصال کے بعدمسندِجلوت پرتخت نشیں ہے۔
                                پلٹ پڑاہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
                                نشیبِ  ز ینۂ ایام  پرعصا ر کھتا
                مجیدامجدنے اپنی شاعری میں کوئی دعویٰ نہیں کیا۔البتہ اس کی شاعری میں ایک زندہ غم ہے۔شایدیہ زندہ غم وہی ہے،جوعلامہ اقبال کے الفاظ میں زندہ تمناتھا۔مجیدامجدکی شاعری میں غالب کی طرح ماتم یک شہرِآرزو،تمثال دارآئینے کی طرح ہے۔جس کے ٹوٹنے کا غم نہ صرف شدید  ہے، بلکہ داخلی اورخارجی سطحوں پربے شمارتبدیلیوں کا مظہربھی ہے۔
                مجیدامجدکی ساری زندگی حالتِ جہادمیں گزری ہے۔وہ داخلی اورخارجی دونوں سطحوں پرمردانہ وارجنگ لڑتارہا ۔وصال کے بعدفکرِشعرکوبالیدگی اورروحِ شاعری کوتازگی دے کربچوں کی طرح نازِصداقت کئے بغیر,روش روش پرگلاب کے پھول لٹاتابڑھ رہا ہے۔ نظم کوجدیدمعنوں میں نظم کا معتبرحوالہ مجیدامجدکے نام سے ملتاہے۔فیض، راشداورمیراجی کے ہوتے ہوئے بھی ، ابلاغ کی سہولتوں کی کمی اورکنجِ تنہائی وخاموشی کے باوجود،دنیائے ادب میں اپنا نام زندہ رکھا۔ اقبال کے بعدآنے والے شعراءکوفکرِاقبال سے بچناممکن نہیں تھا۔اوراخترشیرانی کی رومانویت بھی دامنِ دل کوکھینچتی تھی ۔
فیض اورراشدنے ان شعراءسے اثرقبول کیا۔میراجی نے توہندی دیومالا میں دنیا بسالی تھی ۔لیکن مجیدامجدکی شاعری میں ہمیں ان کے ہم عصرشعراءفیض،راشد،میراجی یا  اخترشیرانی  ،وغیرہ کے اثرات نہیں ملتے البتہ چندنظموں میں علامہ اقبال کی منظرنگاری  کا اثرخصوصاً قابل ذکرہے۔
حالاں کہ اقبال کے فوراًبعدجس مثلث نے شاعری پرحکمرانی کی وہ فیض، راشد اور میراجی کی مثلث تھی۔شایداسی حوالے سے ساقی فارو قی نے احمدندیم قاسمی سے سوال کیاکہ کیا آپ کی شاعری فیض،راشداورمیراجی کی مثلث کوتوڑسکی ہے۔قاسمی کا جواب اپنی جگہ لیکن بقول ساقی فاروقی, احمدندیم قاسمی کی شاعری یہ مثلث توڑنے میں ناکام رہی ہے۔اوراب ایسا امکان بھی نہیں ۔فیض احمدفیض نے تغزل کا سہارالیااورتعلقات عامہ کے تمام ہتھکنڈے استعمال کئے ۔ ثنااﷲڈارنے میراجی کابہروپ بھرا،اوردھرتی پوجاکی مثال بن کرہندودیومالا   (Mith)کے سہارے سے منفردبنے۔
                 ان تینوں شعراءمیں جنس ایک اہم حوالہ ہے ۔بقول سلیم احمد"جدیدنظم راشداور میراجی کی مرہون منت رہے گی"۔جب کہ تقدیم کا مسئلہ کئی دوسرے اہم نام بھی سامنے لا چکا ہے۔ البتہ میراجی اورراشدآزادنظم کونام اوراعتباردلانے میں اپنے پیش روں سے بڑھے ہوئے ہیں۔
                عدم آبادکا ماحول کچھ اس طرح دھیان میں آتاہے۔جونہی اس ادبی مثلث پر، مجیدامجد کا نام طلوع ہوتاہے۔توچندلمحے کوخاموشی طاری ہوجاتی ہے۔یہ گڈڑی کالال مسندادب کی طرف بڑھتاہے۔فیض پیچھے کوہٹتے ہیں۔راشداستقبال کرتے ہیں۔میراجی خندہ زن،دزدیدہ نظروں سے راشدکی طرف دیکھتے ہیں۔یوں ,اجنبی،     بے نشان ،پابہ گل ، مسندادب پرجلوہ افروز ہوتاہے۔
                عظمت میرٹھی سے لے کرآج تک آزادنظم(نظم جدید)،نثری نظم وغیرہ میں جتنے نام ہیں۔وہ اپنی جگہ اہم ہیں۔لیکن راشدکے بعداہم ترین اورجدیدترین شاعرانہ اضافوں ،فنی خوبیوں،گہرائی اورگیرائی میں بلندترمجیدامجدہی ہیں۔چونکہ راشداورفیض کا فسوں ابھی تک موجودہے۔اوریارلوگ وہی بے سری ڈفلی بجانے کاکام کررہے ہیں۔
اس لئے مجیدامجدکوعام قاری تک پہنچنے میں دشواری کاسامناہے۔حالاں کہ مجیدامجدنے فنی اورفکری سطح پرمقداراورمعیار کے حوالے سے ان دونوں شعراءسے زیادہ نظمیں کہہ رکھی ہیں۔اس لئے ادب کے پارکھ پریشاں ہیں۔اورکوئی ایک ادبی معیارمقررکرکے پرکھنا،ان کے بس میں نہیں رہا ۔خواجہ زکریاّنے اس کا حوالہ دیاہے۔
                مجیدامجدکی پہلی نظم ۱۹۳۲ءمیں شائع ہوئی۔اوراسی دورمیں فیض ،راشداور میراجی بھی عام لوگوں تک پہنچے۔مجیدامجدکی اک اورخوبی جوان کے ہم عصرشعراءسے بڑھی ہوئی ہے۔ وہ فنی اورفکری پختگی ہے،ان کا کلام نہ کچے پن کا شکارہوا،اورنہ ہی عامیانہ طرزاسلوب سے دامن آلودہ ہوا۔اس جسمانی ،لمسیاتی رومانی فضا میں ان کی پہلی نظم ہی ایک الگ ذائقہ رکھتی ہے۔
                کلیات کاآغازموجِ تبسم سے ہوتاہے۔دنیائے آب وگل کی ابتداءہوتی ہے۔ ستارے چمکنانہیں جانتے تھے،غنچے ناواقف تبسم تھے ۔چمن،عنادل کے ترنم سے ناآشناتھا۔ نہ شمع،نہ پروانے،بربط کے تارنغمے سے شناسا بھی نہ تھے۔نہ رنج،نہ کلفتِ دل،نہ سازِالفت ، اک خاموشی تھی،فغانِ بزمِ ہستی پرحسن کی تجلی ٹوٹی اوردنیا آبادہوئی۔فتنے جاگے ،ذرے سیماب بنے ،گلوں کے قہقہوں کاغل ہوا۔بلبل کی نوااٹھی،برشگالی کالی راتوں میں برق چمکی اور پھرمعلوم ہواکہ:
                                یہ موج بحرِامکاں جلوائے موجِ تبسم ہے
                                                چمک کرجوترے لب پرفروغِ افزائے عالم ہے
                                تبسم جس کی رنگینی ترے ہونٹوں پہ رقصاں ہے
                                                تبسم آہ جس کارقص مضرابِ رگِ جاں ہے
یعنی دل میں لطف کی پرکیف لہریں اٹھتی ہیں۔چہرے پرجذب ومستی ظاہرہوتی ہے۔ تواک موج اچھل کرتبسم بن جاتی ہے۔یوں حقیقی مسرت کا سرچشمہ تبسم اورحسن کوچار چاند لگانے والا احساس نظم کے پیکرمیں ڈھلا۔لیکن کہیں ڈھیلا پن یاعامیانہ طرزنہیں اپنایا۔ ہرمصرعے پرشاعر کی گرفت مضبوط ہے۔ہرمصرع خیال کوآگے بڑھا تاہے اورآخراس گھنڈی کوکھولتاہے۔جس کا نام  موجِ تبسم ہے۔اس کے بعد مجیدامجد،حکیم الامت علامہ  محمداقبالؒ کوخراج عقیدت پیش کرتاہے۔
                                عریاں تری نگاہ میں اسرارِکن فکاں
                                                مضمرترے ضمیرمیں تقدیرِکائنات
                                دنیا کاایک شاعرِاعظم کہیں تجھے
                                                اسلام کی کھچارکاضیغم کہیں تجھے
 اچانک ہوائی جہازکودیکھ کرایک ہوک سی دل میں اٹھتی ہے۔اک طرف ارتقاء کی یہ صورت کہ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ ہواوُں میں اڑتے ہیں۔دوسری طرف ہم لوگ جن کی مضمحل ہستی حیاتِ جاوداں کے رازسے محروم رہتی ہے۔انسان کب تک یوں درندوں کی سی زندگی بسرکرے گا۔اوراس رجائیت آمیزپیغام کے ساتھ فقط سعیٔ مسلسل سے،فقط ذوقِ تجسس سے،خوش گوار نظاروں میں کھوجاناچاہتاہے۔کہیں لا شعورسے یہ آہ نکلتی ہے۔آہ یہ خوش گوار نظارے !یوں پہاڑوں میں ساملی ،درختوں میں چیل اورباغوں سے گذرتے ہوئے تنگ جھونپڑے جوزندگی کی علامت ہیں،نظروں سے گذرتے ہیں اورشاعران نظاروں کاحصہ بن کرسرمدی کیف میں اپنی ہستی کوڈبوناچاہتاہے۔اورمحبوبِ خداسے عرض گزار ہوتاہے۔اے روح روانِ معرفت تجھے اپنی شانِ خسروی کا واسطہ ،"مررہا ہوں زندگی کاجام دے" کیونکہ زندگی اورروح کی تابندگی توہی ہے۔
                                میرے دل کومہبطِ انوارکر                   
مجھ کوبھی بینندۂ اسرارکر
یہاں شاعرقوم کی خستہ حالی دیکھ کرقوم کی بیداری کی دعاکرتاہے۔دل سکینۂ قلب کی منزل حاصل کرتاہے۔یوں آبادی کاپہلانشان گاں ملتاہے۔آپ نے دیکھادنیاکی ابتداءکا ذکر کرنے اورحکیم الامت کواپناحکیم ٹھہرانے کے بعدترقی کاایک حوالہ دے کرخوش گوار نظاروں کے ذکرکے بعدمحبوبِ خداسے درخواست گزارہوتاہے۔یہ بالکل اسی طرح ہے، جس طرح بچہ دنیا میں آنے کے بعدتبسم سے آشناہو،اپنے کس ہمدردکا سہارالے کرچلے ، نظاروں کودیکھے اوراس حقیقی ہمدردکے توسط سے رحمتِ عالم تک رسائی حاصل کرے۔ زندگی وآبادی کی نویدکے ساتھ گاؤں تک جاپہنچے۔ پہلی اچٹتی ہوئی نظرمیں گھاس پھوس کی تنگ وتاریک جھونپڑیوں پرپڑتی ہے،جہاں تمدن نام کی کوئی چیزنہیں سامنے آتی ہیں، مانوسیت بڑھتی ہے۔جھونپڑوں کے اس پارکھیت جھاڑیوں کے جھنڈ،ریت کے ٹیلے ،سادگی ،سکوں،درخت ،درختوں کے سائے بھینسیں،بھیڑ بکریوں کے ریوڑ، جو جبلت سے مجبور ہوکرہرچیزکوسونگھتے ہیں ،سامنے آتے ہیں۔اوریہ اندازدیکھئے ۔
                یہ آندھیوں کے خوف سے سہمی ہوئی ہوا
                                جنگل کی جھاڑیوں سے سنکتی ہوئی ہوا
 اس کے "کنواں"زندگی کا مظہراورجہاں کی زندگی کامحوربن جاتاہے۔
                                برفاب کے دفینے اگلتاہواکنواں
                                یہ گھنگھروؤں کی تال پہ چلتاہواکنواں
بیل یابیلوں کاجوڑا،پاؤں میں گھنگھرو،کنواں اورکنویں کے گرداپنے ہی گھنگھروؤں کی مست کردینے والی آوازاوراس تال کی مستی سے مسلسل چلتے بیل ،ٹھنڈے پانی کے خزانوں کولٹاتا ہواکنواں،کھیت اوراردگردکی ہرشے اس سے زندگی پاتی اورشاداب ہوتی ہے۔"دوشیزۂ  بہارکی اٹھتی جوانیاں"جب یہ سب کچھ مل جاتاہے تو،"ہاں ہاں یہ حسن شاہدفطرت کی جلوہ گہہ کہہ کرحسنِ فطرت کے ظاہر اورساری ہونے کوایک نیارنگ دیتاہے۔اورآخری شعربھی دیکھتے چلیں۔
                                دنیامیں جس کوکہتے ہیں گاؤں یہی توہے
                                طوبیٰ کی شاخِ سبزکی چھاؤں یہی توہے
                اگرایسی بات ورڈس ورتھ(Words Worth)کہے تودنیاکاعظیم شاعربن جائے اور اگرشاعرِبے نشاں ،پابہ گل،مجیدامجدکہے توجواباً ایک مجرم خاموشی کے سواکچھ نہ ہو(ورڈس ورتھ پرایک اعترض یہ بھی ہے کہ اسے دنیامیں صرف مناظرِفطرت ہی نظر آئے اورحسن صرف مناظر ہی میں نظرآیا۔انساں جواس دنیا کامحورومرکزہے کیاوہ حسیں نہیں؟کیااس کے غم اور خوشیاں ناقابلِ اعتناءہیں؟یہ اعتراض کولرج اورورڈس ورتھ کی بہن ڈورتھی نے کیے تھے ) ۔  لیکن مجیدامجدپریہ الزام نہیں لگایاجاسکتا۔مجیدامجدحالی کومحبت کا نذرانہ پیش کرتاہے۔
                                اگراب بھی نھیں سمجھے تولومیں برملا کہہ دوں                         
اجی اک آنے والے دورکی تمہیدہے حالی
                بات موجِ تبسم سے شروع ہوئی تھی ۔مختلف رنگ اورانگ دیکھنے کے بعد،حسن تک پہنچی غالباً ’حسن‘ پہلی نظم ہے جوحقیقتِ حسن (علامہ اقبالؒ)کے بعدسب سے زیادہ متأثرکرتی ہے۔ حسن کا نازوانداز،حسن کا خرام وبانکپن اورجذبِ والہانہ اس نظم میں دیکھنے سے تعلق رکھتاہے (نجانے نصاب مرتب کرنے والے لوگوں کوایسی نظمیں کیوں نظرنہیں آتیں؟)۔حسن کی حقیقت پہلے ہی مصرعے میں واضح ہوجاتی ہے۔
اگرچہ علامہ اقبال نے جرمن ادب سے متأثرہوکرحقیقتِ حسن کہی تھی ۔ لیکن علامہ اقبالؒ کی نظم واضح طورپرجرمن شاعرگوئٹے کے خیال کومہمیزلگاتی ہے۔اورعلامہ اقبالؒ نے اسے اسلامی مشرقی رنگ میں رنگ دیاہے۔
اسی طرح مجیدامجدکی نظم اقبالؒ کے فکرکا تسلسل ہے۔اورواضح طورپراگلے پڑاؤ کی جانب اشارہ کرتی ہے۔اقبال ؒکی نظم مکالماتی ہے۔اورحسن کا خداسے استفسار اور جواب کے بعد حسن کے رخ پرحزن کے اثرات کا کائناتی تناظرمیں فناءاور بقاءکامسئلہ اپنی جگہ،لیکن مجیدامجدکی نظم’ حسن‘میں ایک عجیب حسن اورسرمستی ہے اورحسن کونازہے کہ کائنات کی ہرچیزمیں جلوہ گرہے۔اوررازِفناءوبقاءسے واقف ہے۔
                                یہ کائنات میرااک تبسمِ رنگیں
                یہاں حسن 'الحسن 'بن جاتاہے اورستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں کاپیغام بھی دیتا ہے۔کہ اک تبسم رنگیں ،اگریہ کائنات ہے،توحسنِ مجسم کیاہوگا؟یہ جوفردوسِ بریں اورفردوس کی بہاروں کی دھوم ہے کیاہے؟
                                بہارِخلدمری اک نگاہِ فردوسیں
سبحان اللہ۔وجداں کی وہ سطح جہاں اوراقِ ادراک پرصحیفے اترتے ہیں۔زمین وزماں کی جلوہ خیزیاں ،فضائے جہاں کانورریزہونا،مرے دم سے ہے۔میں ہوں تویہ ہیں۔اس اطمینان     کے ساتھ یہ تیقن"وتعزمن تشاء"ایک قدم اورآگے بڑھیے ۔
                                گھٹا؟نہیں میرے گیسوؤں کاپرتوہے!
                                ہوا؟نہیں  میرے جذبات کی تگ ودوہے!
گھٹا،نہیں نہیں !میں نے  گیسوؤں کوکھولا ہواہے۔ہواؤں کوان سے کھیلنے کی اجازت دی ہے۔گیسواڑرہے ہیں۔گھٹاگھنگھورہورہی ہے۔اور پھر ہوا کیاہے؟ہوا،ہوااورکچھ نہیں ہے، میرے جذبات کے اتارچڑھاؤکانام ہے۔جذبات کے ساتھ سانس  کی رفتارمیں تبدیلی آتی ہے۔کبھی آہِ سرد،کبھی گرمئ جذبات ،کبھی سانس کاتیزہونا، کبھی اضطرب ،کبھی حالتِ نیند، 'ہوا'اورکچھ نہیں ہے؟آپ نے دیکھاگھٹا،گیسوں کااستعارہ کیسی بنی اورگیسوبھی کہاں؟ پرتوگیسو!گھٹامجبورہے،ہوامجبورہے۔یہ تیور،حسن کے ہیں۔حسن کی ایک جھلک دیکھئے۔
                                جمالِ گل ؟نہیں بے وجہ ہنس پڑاہوں میں
                                نسیمِ صبح ؟نہیں سانس لے رہا ہوں میں
گل کاجمال مصحفِ گل،پھول کی پتیاں؟نہیں ہیں!یہ تومیری ہنسی تھی ۔چوں کہ بے وجہ تھی ، یارلوگوں نے اسے گل کاجمال سمجھا۔اورنسیمِ صبح،بذات خودکیاہے؟میراسانس لینا !جس کا سانس ، نسیمِ صبح ہو،وہ خودکیا ہوگا؟حسن کے تیوردیکھتے جائےے!فکرکوپھرمہمیزلگتی ہے۔
                                یہ عشق توہے اک احساسِ بےخودانہ میرا
پہلی بات تویہ ہے کہ عشق کے لئے احساسِ بیخودانہ جیسی ترکیب تراشنے کے بعد، چیزے دگر بنا دیا گیاہے۔حسن کی بے خودی کا احساس عشق ہے۔عشق کے مختلف نام اورتفسیریریں مختلف شعراء نے کی ہیں۔لیکن یہاں خودحسن ہے۔جواس بے نیازی سے کہہ رہا ہے کہ عشق کچھ نہیں ہے۔ مرااحساسِ بے خودانہ ہے۔اورزندگی کی نئی تفسیربھی سنیے،’زندگی توہے،اک جذبِ والہانہ مرا، علامہ اقبال نے زندگی کوایک الگ زاویٔ نظرسے دیکھا۔'برترازاندیشۂ سودوزیاں ہے زندگی'اورپھر 'سرآدم ہے ضمیرِکن فکاں ہے زندگی'کی دلیل سے واضح کرتے ہیں۔
لیکن مجیدامجدنے تخلیقِ آدم اورزندگی کی ابتداءکے متعلق صوفیانہ نظریے کی واضح اندازمیں تجدید کردی ہے۔حسن کہتاہے،زندگی تومرااک جذبِ والہانہ ہے۔یہاں جذبِ والہانہ کی ترکیب بھی بے نظیرہے۔جذب کے معنی ہیں،کھنچ جانااوروالہانہ وارفتگی ،دل ودماغ کے بانکپن کا اظہار ہے۔ جب حسن پوری توجہ اوربانکپن سے متوجہ ہوا،توزندگی کی علامت ٹھہرا۔یہاں مجیدامجدکافکر القاءکی حدوں کوچھوتاہوامحسوس ہوتاہے۔
                                ظہورِکوں ومکاں کاسبب !فقط میں ہوں
                                نظامِ سلسلۂ روزوشب !فقط میں ہوں
دنیامیں ہزاروں رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔صحرا،دریا،پہاڑ،وادیاں، جھیلیں ،میرے عکس ریزے ہیں۔کون ومکاں کہاں ہوتے؟اگرمیں نہ ہوتا؟نظامِ دنیاکب ہوتا ؟اگرمیں نہ ہوتا؟ میرے ہونے سے یہ ہیں۔عربی مقولہ ہے۔" اللہ جمیل و یحب الجمال"
. According to Browining Beauty is the creative joy of God
                آپ نے ملاحظہ فرمایا،اس مختصرنظم میں پہلے مصرعے سے نظم کس طرح اٹھتی ہے ۔ اور آخری مصرعے تک تکمیل کی کن حدوں کوچھولیتی ہے۔چھ شعروں میں حسن کاایسا بھرپور  تعارف مجیدامجدکے فکروفن کی بہترین صلاحیتوں کا اظہارہے۔
یہی مجیدامجدکافن ہے۔یہ نظم حسیاتی ولمسیاتی دونوں پہلوؤں سے اپنے پیش روؤں سے بڑھی ہوئی ہے۔اس نظم میں خیال فینٹیسی Fantancy )  (کی حدوں کوچھولیتاہے۔یوں ان دیکھی دنیاؤں کا مسافر،نواردکے روپ میں ظاہر ہوتاہے۔اجنبی شہرِمحبت میں ہے،لیکن اس دیس کے اطوارسے ناواقف ہے۔اس لئے کہتا ہے۔ "اک مسافرہوں ترے دیس میں آنکلا ہوں"کہتے ہوئے گذرجاتاہے۔اوراپناگھرجومامن ٹھہرا،یعنی جھنگ پہنچ جاتاہے۔لیکن وہاں بھی اسے تسکین نہیں ملتی کیوںکہ'یہاں پرقلب ونظرکو غذانہیں ملتی' ۔اوریہاں کے تحفے حسد ، عداوت اورافلاس ہیں ۔ اس لئے شاعرندیمِ جھنگ سے تنگ آجاتاہے۔خارجی بیزاری اورداخلی کرب مل کربے کل کردیتے ہیں۔اور'۔۔۔۔ یہی دنیا ؟' سے واسطہ پڑتاہے۔
                جس جگہ اٹھتی ہے یوں مزدورکے دل سے فغاں
                                                فیکڑی کی چمنیوں سے جس طرح نکلے دھواں
                جس جگہ سرماکی ٹھنڈی شب میں ٹھٹھرے ہونٹ سے
                                                چومتی ہے روکے بیوہ ،گال سوتے لال کے
فغاں کوفیکٹری سے نکلنے والے دھوئیں سے تشبہیہ دینابھی شاعرکی جدیدلفظیات پر دسترس کوظاہرکرتاہے۔محبت کی گرمی مسلم،لیکن جب بیوہ ماں تمام دن فیکٹری میں کام کرنے کے بعدلوٹتی ہے اوراپنے لال کوآغوش محبت میں لٹاکرٹھٹھرتے ہونٹوں سے چومتی ہے تو آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔محبت کی گرمی نے بھی ٹھٹھرے ہونٹوں پر اثرنہیں کیا۔ ندیم جھنگ سے تنگ آ کرجب ایسی دنیا سے واسطہ پڑاتودھیان میں آیا،جوانی میں تولوگ خوش ہونے کے لاکھوں بہانے ڈھونڈلیتے ہیں۔میری جوانی کی کہانی کیسی ہے؟
                                میری آنکھوں میں آنسوجھوم آئے
                                                نہ چھیڑاے دل جوانی کی کہانی
ادھراک شرط عائدہے۔جوانی اورشرط ،عشق اورمشک کہیں چھپائے چھپتاہے؟
لیکن مجبوری ہے ۔  یہی بنیادی شرط ہے،شاعرکہتاہے،مجھے معلوم ہے کہ تیری شرط اتنی کڑی کیوں ہے؟ کیوں کہ
                                کسی شب ایسانہ ہونالۂ بیتاب کے ساتھ
ترے ہونٹوں سے نکل جائے میرانام کہیں!
شاعرہرشرط مان لیتاہے۔اورشعلۂ جاں سوزمیں جذب ہونے کے بعدکہتاہے۔
                                اورخداپوچھے گاوہ  راز  باصرارترا
                                اس کے اصرارسے ٹکرائے گا انکارمرا
               باقی آئندہ

Wednesday, 19 September 2012

مامتا ,


 مامتا
بچپنے میں اک ہستی
ذات کاجومرکز تھی
لڑکپن میں بھی وہ میری
اتنی ہی ضرورت تھی
جوانی میں قدم رکھا
تونئے ولولے تھے دل کے
نئی امنگیں تھیں ترنگیں تھیں
خیال کی ہرآہٹ کا
وہ مرکزی حوالہ تھی
پھرایساموڑآتاہے
خوابوں کے ،عذابوں کے
نئے باب کھلتے ہیں
کوئی مانوس اجنی آکر
دور۔۔۔لے جاتاہے!
عجیب ایک سرخوشی
عجیب خوف ومستی بھی
ساتھ ساتھ چلتی ہے
کئی آئینے روشن
کئی دیپ جلتے ہیں
احساس کی سطح پہ پھر
اک خیال پلتاہے
اورکوکھ میں بھی اک
جی ہے کہ دھڑکتاہے
تخلیق کی مسرت بھی
انجانی ایک حسرت بھی
خوف بھی اورجرٔات بھی
کئی سمےگزرتے ہیں
دل کی دھڑکنیں اس کی
ان دھڑکنوں سے ملتی ہیں
اک وجودپلتاہے
اوراک نیاپیکر
وجودسے ہی ڈھلتاہے
تب ایک نیاجذبہ
وجودسے ابھرتاہے
سایدیہی مامتاہے!

Sunday, 9 September 2012

بساط ہستی بچھی ہوئی ہے،مظہرفریدی

بساط ہستی بچھی ہوئی ہے
بساطِ رنگ وسرود ہو کہ
بساطِ سروسمن ہو,اس میں
بساطِ ہستی بچھی ہوئی ہے
بساط ایک دائمی کڑی ہے
ازل سےلےکرابدکی حد تک
ازل سےپہلےاوربعدِ ابدبھی
اگرتواتر ہےزندگی کا!
توکون کیاہے؟پتانہیں ہے!
وجود ممکن!وجود حادث!
یاوجودِ اظہارکی حقیقت !
عالمِ ذات میں چھپی ہے
یہ ذات کیاہے؟
یہ ذات حیرت سےبالاترہے
حسیں تصور سےاعلیٰ ترہے
گل کھلیں یاکہ خوشبومہکے
نسیم لہکےیاکوئل چہکے
نہ  وہ حسیں،رنگ و بوکاپیکر
نہ خوش گلومیں ہی وہ چھپاہے
نہ جمیل آوازمیں وہ مقید
مگروہ کیاہے؟
جودل  کےآنگن میں نوربن کر
جامِ ساگرانڈیلتا ہے
وہ نام ایسا،کہ نام سارے،اسی کےاپنے
وہ ذات ایسی جوبےنشاں ہے،جو بےگماں ہے
اسی کےادراک کااشارہ
ہماری حیرت سےآ ملاہے
ہماری حیرت توعارضی ہے؟
کہ اِس کےسارےسوال کچے!
خیال سچے نہ خواب سچے!
بس اک کڑی ہےاس رابطےکی،
جوخاک کواعتباردے دے
اورواہموں کو،وجود ِامکاں ثبات کردے
حقیقت کوبودوہست کردے
تمام عالم میں آدمی کو
بس ایک جلوےمیں مست کردے!
بساط اب تک بچھی ہوئی ہے!؟

وقت گرہ گیر،مظہرفریدی

وقت گرہ گیر
وقت گرہ گیر نے ہر کس و نا کس کو پابندِ سلاسل کر رکھاہے۔کہ اچانک گردشِ دوراں سے ایک پتھرپھسل کرلوحِ کائنات پر پڑتا ہے۔چھناکے کی آواز دور تک گشتِ باز بن جاتی ہے۔اور پھر چھناکوں کا ایک برابر ،لا منتہی تسلسل ۔۔۔ ۔۔!لیکن کون اس صدا پر چونکے؟ناچار یہ گونج بن کر اپنے ہی وجود میں گم ہو جا تی ہے۔مگر ایک جھروکے سے آدم یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔
وہ مشیت کے اس راز پر خاموش اور اپنے آپ میں مگن ہے ۔نامعلوم وجود سے عدم تک کتنا وقت گزر گیا ہے ؟ وقت خود اپنے گزرنے سے بے خبر تھا ،کیوں کہ عذابِ  آگہی سے نا بلدتھا ۔انسان اس راز سے بے خبر بھی نہیں تھا ،کہ اسے اتنا بھی معلوم نہ ہو کہ خود شناسی سے بڑھ کر ،کربِ امتحان آدمی کے لیے بڑھ کر کوئی اور ہے ۔لیکن کیا کریں اسی آگہی کے بغیر انساں کچھ  بھی نہیں ؟نامعلوم ان تخلیق کے لمحوں میں کیا دعا کی گئی؟ ،لیکن عدوِ جاں نے تو اسے گم راہ کرنے کا پیماں باندھاتھا ۔یہ پیماں، شکستِ وجود کی پیداوار تھا ۔خواہشوں کی نا کامی کا شاخسانہ تھا ۔ہوسِ اقتدار کی ابتدائی کڑی کا زہر تھا ۔لیکن آرزو کے پورا نہ ہونے پر ،شیشہ غرورچور ہوا تو ،جھوٹی انا آڑے آ گئی ،اور بے حیثیت ،کم فہم مدِ مقابل آ ٹھہرا ۔یہ باتیں شعورِ ذات کے ان ابتدائی لمحوں کی ہیں،جب سپنوں کا سہانا پن تازہ تھا ۔خوابوں کا بدن نازک تھا ۔معصوم مسکراہٹوں کا بانکپن، بانکپن تھا۔اورا مکاں ان تمام تخئیلات کو وادی تحیر میں ڈالنے والا۔حسن کی کوئی نظیر نہیں ،بیاں کیسے کریں ؟یوں حالتِ تخئیل اور تحیئر میں ابنِ  آدم کو اسمِ ذات اور علمِ کائنات کا امرت زہر پلایا گیا ۔

خود کلامی،مظہرفریدی

خود کلامی
ایک دن میں چلا جا رہا تا /خیالوں میں گم تھا /کہ میں ایک ایسے رستے پہ نکلا /حدِ نظر تک جو سیدھا چلا جا رہا تھا /اچانک ایک آواز نے مجھے چونکا دیا /پلٹ کر جو دیکھا تو میں ہی میں تھا/یا مرے ساتھ میری تنہا تھی، سوچیں /ایسا اجالا کہ سائے بھی گم تھے /بے ساختہ میرے منہ سے یہ نکلا /کہ کون ہو تم؟/ یہ لہجے میں ایسی بے زاری کیوں ہے؟ /مگر اب میں حیران و ششدر کھڑا تھا / کس سے میں باتیں کیے جا رہا ہوں / میرے ہی اندر سے آواز ابھری ۔۔۔۔۔ یہ میں ہوں!؟ /میں اپنے میں سے، محوِ سخن تھا / شکستہ تفکر ،شکست خوردہ لہجے میں بولا /کل شام چوراہے پہ تو نے مجھے، بھیڑ میں حیران دیکھا تو ،پہلو بدل کر سنی ان سنی کر کے رستہ تھا بدلا /تو معلوم ہے تم کو واں کیا ہوا تھا ؟/لیکن تمھیں اس سے مطلب!/ اس سے اک روز پہلے بھی تو اک حادثہ ہو گیا تھا /تیرے ساتھ ہی تو گیا تھاوہاں میں /وہاں موقع پا کر ،نظریں بچائیں اور تو رفو تھا /مجھے ہوش آیا تو نظریں گھمائیں ،دائیں بائیں دیکھا /تو  کو ئی  نہیں تھا /مگر ایک قطرہ ٹپکا تو دیکھا مرا سارا جثہ ،پسینہ پسینہ!/ماتھے پہ ایسی ندامت کے قطرے ، کہ خود سے بھی نظریں ملانے کی طاقت نہیں تھی / پھر یونہی بے خودی میں ،میں چلتا رہا تھا /ٹھوکرجوکھائی توکیا دیکھتا ہوں؟ ایک مرقد مرے سامنے ہے!؟/یہ تربت ہے کس کی ؟/ایک آواز ابھری،کیسے ہو راہی؟تم کو یہاں تک یہ تربت ہے لائی /یہ آواز تربت سے میں سن رہا تھا /مجھے اتنی جلدی بھلا بھی دیا ہے!/ پھر وہ تربت یوں گویا ہوئی تھی/تیرا پیدا ہونا،تیرا وہ بچپن،مجھے یاد ہے سب /لڑکپن کی باتیں / جوانی میں تم نے قدم جب تھا رکھا /تو کیسے خیالات تھے دل میں آئے /وہ حسینوں کے جھرمٹ، وہ گیسو،وہ کاکل !/وہ شرابی نین بھی /اور ہونٹ جیسے یاقوت و مرجاں / تیرا بدن بھی بناوٹ میں ایسا !/اگر کوئی دیکھے تو دیکھے ہی جائے / تم نے اپنے میں سے دھوکا یہ کھایا /کہ تو میں ہی میں تھا / دولت کی دیوی تھی، تیرے چرن میں/طاقت کا یزداں بھی تجھ میں سمایا / وہ دن تمھاری بھی یادوں میں  ہو گا!/ تو جب اہرمن بننے لگا تھا /اک نئی،راون سیتا کہانی جنم لینے لگی تھی /مگر یہ تو میں تھی ،بچا کر جو لائی تجھے سانحے سے /کئی بار ایسے بھی ہو نے کو آیا کہ تیرا ظلم بھی پنپنے لگا تھا /روکا تھا تجھ کو،موڑا تھا حالات کے رخ کو میں نے /ایسے کئی واقعے تیری جبیں پر رقم ہیں/مگر ہر بار میں تجھ کو بچاتی رہی ہوں /مگر کون جانے؟ کہ انجام کیا ہو؟/کیا تو بے خبر ہے؟/تربت سے اپنی!/ تیرا بدن یہ کٹیلا ،سجیلا /مٹی میں اک دن سونے کو بے تاب ہو گا /کیا زادِ سفر ہے؟/بنایا ہے گھر کیا؟/تعمیرکی ہ ے نئے گھر کی تو نے، نئے گھر کی تعمیر میں ہے،کیا لگایا؟/بدن ہے جلایا پکانے میں اس کو/کتنی شبوں کو سحر سے ملایا/ ترےسارے سنگی تھے ،کیسے قماشی؟/اک لہر میرے بدن میں تھی دوڑی/اور خوف کے جال نے، تفکر ،تجسم کا حلقہ کیاتھا / میں سر تا پاؤں خفی کپکپی سے لرزنے لگا تھا /آنکھیں کھلی تھیں ،مگر جیسے ویراں مکاں اپنی ویرانی سے دبکا ہوا ہو!/آغوش وا تھا مگر جیسے بیوہ کا جوڑا سارے میں بکھرا پڑا ہو!/ہونٹوں پہ پپڑی، کہ  صدیوں کی تہہ تھی، لبوں پر جمی تھی !/تجسسس تھا جامد ،کہ جیسے تخئیل کی ساری اڑانیں/پروں کو اتارے ،ہانپتی ہوں/میرا بدن تو کھڑا تھا مگر میں، ڈھے گیا تھا /دیکھا تو تربت تھی میری /میرا بدن تھا ،جو محوِ سخن تھا !۔

عبرت گہہ عالم ہوں! ،مظہرفریدی

                عبرت گہہ عالم ہوں!               
عبرت گہہ عالم ہوں!/،میں ابنِ آدم ہوں !/،تخلیق سے پہلے بھی ،/تھا کہ نہیں تھا میں ،/پر سنتا ہوں یہ میں بھی ،/گِل گُل بدن میرا ،/اُس دم سے ذرا پہلے ،/اک نار کا چرچا تھا ،/تھا آ   گ بدن اس کا ،/اور سوچ بھی شعلہ تھی،/پر جانے ہوا کیسے؟ ،/استاد ملائک کا !،/خود کو وہ سمجھ بیٹھا کردار فسانے کا ،/اور خود ہی بنا ڈالا اک طور زمانے کا ،/اک دن یہ کہا سب سے ،/وہ جو خالقِ عالم ہے ،/اک دنیا سجائیں گے،/اور صحنِ محبت میں ،/ہم پھول کھلائیں گے /چالاک تھا وہ ایسا ،/سرداری کا کیا ہو گا؟،/کوئی اور اگر آیا /،درباری کا کیا ہو گا؟ ،/بس بیر تھا سینے میں ،/بے زار تھا جینے میں ،/پھر دم کا ہوا چرچا ،/آدم کے خزینے سے ،/یوں خلق سے پہلے ہی /،دشمن کو تھاپایا !،/ یہ کام عجب سا ہے ،/میں کس کی کہانی ہوں!؟/،جو تیری زبانی ہوں !/میں ابنِ فانی ہوں !۔
                وہ باغ تھا اک ایسا ،/رہنے کو ملا ہم کو ،/ واں فکر مقید تھی ،/واں سوچ جو آتی تھی ،/نور سے دھل کر ہی،/ پھر دل میں سماتی تھی ،/ عدو کو یہ کب بھایا ،/وہ تو دشمنِ ازلی تھا ،/گستاخ تھا خالق کا ،/سیاست بھی تھی پائی ،/ہر چال نئی چلتا ،/آخر کو تھا پھسلایا ،/ہم کو ہی تھابہکایا،/شرمائے تھے ہم دونوں ،/پھر کتنے سمے گزرے ،/روتے ہوئے آنکھوں کو ،/سر اٹھتا نہیں تھا پھر  ،/اک بار جو اٹھا سر ،/دیکھا تو معطر تھا ،/منظر وہ سارا ہی ،/یا دھل گئی آنکھوں سے،/ گرد جو چھائی تھی ،/آخر کو پناہ چاہی/ ،لیکن نہ ملا ہم کو ،/وہ گھر جو پرانا تھا ،/ صدیوں کو بسانا تھا ،/ سامنے میرے اک ،/تا حدِ نظر پھیلا ،/وہ ریت سمندر تھا ،/یا پانی کی لہریں تھیں ،/یا پتھر ہی پتھر تھے ،/یا کوہ کے سلاسل تھے ۔/
                ہوش مجھے آیا تو میں  بھی اکیلا تھا ،/اس پر بھی کرم اس کا ،/دونوں کو ملایاتھا،/یوں زیست کا اک چکر ،/زمیں پر بھی چلایا تھا ،/               

کونپل(برگد)،مظہرفریدی